WE News:
2026-07-24@06:53:21 GMT

جواب ضرور  آئے گا

اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT

مئی 1998 کی بات ہے۔ بھارت نے اچانک 5 ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں طاقت کے توازن کو پلٹا کر رکھ دیا۔ 9 مئی کو ہونے والے یہ ایٹمی دھماکے پاکستان کے لیے تازیانہ بن گئے۔ پاکستان سے فوری ردعمل کی توقع تھی مگر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔ پاکستان نے بین الاقوامی طور پر احتجاج تو کیا مگر پاکستانیوں کو اس سے زیادہ کی توقع تھی۔

پاکستانیوں کی عمر گزر گئی تھی یہ قصہ سنتے سنتے کہ کس طرح ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہالینڈ سے یورینیم افزودگی کے طریقے پاکستان بھجوائے، کس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے اس منصوبے کا خفیہ اجرا کیا اور کس طرح ہم نے اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے اٹامک پلانٹ کو تخلیق کیا۔

اس زمانے میں سب سے بڑا خواب یہی تھا کہ پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی قوت بنے گا۔ اس قوت کے بننے سے پاکستان ہی نہیں پورا عالم اسلام محفوظ ہو جائے گا۔ بھارت کی عددی بالادستی خاک میں مل جائے گی اور خطے میں طاقت کا توازن قائم ہو گا۔

ہوا یوں کہ بھارت نے 9 مئی کو 5 دھماکے  کیے لیکن پاکستان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ بین الاقوامی طور پر احتجاج کو پاکستانیوں نے تسلیم نہیں کیا۔ پاکستانی چاہتے تھے کہ ابھی اور اسی وقت ہم ایٹمی دھماکے کریں اور دنیا کو بتا دیں کہ پاکستان ایک ناقابل تسخیر ایٹمی قوت ہے۔

دوسری طرف بھارت میں جشن کا سماں تھا۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ  بالآخر پاکستان کو تسخیر کر لیا گیا۔ بھارتی عوام اور پارلیمنٹ فتح کے گیت گا رہے تھے مگر پاکستان کی جانب سے کوئی جواب نہیں آ رہا تھا۔

اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف دفاعی تجزیہ کاروں، سائنسدانوں سے مذاکرات کر رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ جلد از جلد واشگاف طور پر بتا دیا جائے کہ ہم پہلی اسلامی ایٹمی قوت بن چکے ہیں۔ سائنسدانوں نے نواز شریف سے تیاریوں کے لیے 3 ہفتے کا وقت مانگا۔ نواز شریف کو جلدی تھی مگر کسی غلطی کا رسک بھی نہیں لیا جا سکتا تھا۔

پاکستان نے اپنے طور پر تیاریاں شروع کر دیں لیکن ان تیاریوں کی خبر عوام تک نہیں پہنچی۔ لوگ کے لیے معلومات کو روایتی بیانات تک محدود رکھا گیا۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستانیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا جاتا تھا۔ اپنے لوگ یہ سمجھنے لگے کہ پاکستان کے پاس ایٹمی اہلیت ہے ہی نہیں۔ عبدالقدیر خان ایک فراڈ ہیں۔ اٹامک انرجی ایک ناکام پراجیکٹ ہے۔ حکومت پاکستان بزدل اور نااہل ہے۔ فوج مصلحت کا شکار ہے۔ پاکستان بین الاقوامی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہے۔ نواز شریف نے امریکا سے ڈالر پکڑ لیے ہیں الغرضیکہ جتنے منہ تھے اتنی باتیں۔

کوئی پاکستانی نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان اپنے روایتی حریف کے سامنے چھوٹا پڑے۔ کوئی بھارت کی برتری کوتسلیم کرنے پر رضامند نہیں تھا۔ کوئی خطے میں طاقت کے توازن کو بگڑتا نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ لوگوں کے جذبات بھڑک رہے تھے۔ حکومت پر تنقید کے تبرے برسائے جا رہے تھے۔ لوگ مجموعی طور پر یہ سمجھ رہے تھے کہ نہ ہمارے پاس ایٹمی اہلیت ہے اور اگر ہے تو اس کے اظہار کی جرات نہیں ہے۔

یہ ایک تکلیف دہ کیفیت تھی۔ اصل صورت حال نواز شریف اور اہم عسکری عہدیدار ہی جانتے تھے۔ 3 ہفتے کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ ان 3 ہفتوں میں نہ عوام کو کچھ بتایا جا سکتا تھا نہ دلاسا دیا جا سکتا تھا۔

خیر خدا خدا کر تین ہفتے گزرے۔ 28 مئی 1998 کو پاکستان نے چاغی کے مقام پر 7 کامیاب ایٹمی دھماکے کیے۔ پاکستان کسی بین الاقوامی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا۔ جس وقت یہ دھماکے کیے گئے بھارت میں لوک سبھا کا اجلاس چل رہا تھا۔

وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی فاتحانہ تقریر کر کے اپنے ہم وطنوں کا دل گرما رہے تھے۔ ان کی تقریر رکوائی گئی اور انہیں پاکستان کے 7 کامیاب ایٹمی دھماکوں کی اطلاع دی گئی۔ وہ منظر آج بھی یو ٹیوب پر محفوظ ہے۔ بھارت کی ساری شیخی ایک لمحے میں دھری کی دھری رہ گئی۔ فتح کا جشن منانے والے اچانک ماتم کرنے لگے۔ نعرے مارنے والے سسکیاں بھرنے لگے۔ ساری دنیا میں پاکستان کی ایٹمی قوت کے ڈنکے بجنے لگے۔ پاکستانیوں کے جذبے آسمان تک جا پہنچے۔ نعرہ تکبیر کی صدائیں فضا میں گونجنے لگیں۔ اس دن کے بعد کسی کی کبھی جرات نہیں ہوئی کہ پاکستان کی طرف بری نظر سے دیکھے۔

27 سال پرانی ساری کہانی کا صرف ایک مقصد ہے کہ اب بھی صورت حال مختلف نہیں ہے۔ بھارت بزدلانہ در اندازی کر چکا ہے، اب پاکستان کے جواب دینے کی باری ہے۔ سب کو جلدی ہے۔ لوگ طعنے بھی دے رہے ہیں اور طنز بھی کر رہے ہیں۔ دبے دبے لفظوں میں یہ بات کہنا شروع ہو گئے کہ شاید ہم نے شکست تسلیم کر لی ہے۔

ایسے تمام دوست جو سوشل میڈیا پر مایوسی پھلا رہے ہیں، ان کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے، یہ نہیں ہو سکتا کہ بھارت کی دراندازی کے جواب میں پاکستان چپ سادھ لے۔ خاموشی سے بھارتی برتری تسلیم کر لے، یہ ممکن ہی نہیں ۔

یہ جو جلدباز لوگ فوری رد عمل کا تقاضا کر رہے ہیں یہ اسی قبیل کے لوگ ہیں جو 9 مئی 1998 سے لیکر 27 مئی تک مایوس ہوچکے تھے۔

یاد رکھیں! پاکستان بھارت کو جواب ضرور دے گا۔ ایسا جواب جس کا بھارت نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔ ایسا جواب جس سے بھارت کا غرور سرنگوں ہو جائے گا۔ ایسا جواب جو خطے میں پاکستان کی برتری کے لیے حتمی اور اٹل ہوگا۔

اس ملک سے اور اس فوج سے مایوس نہ ہوں۔ یہ جان تو قربان کر سکتے ہیں مگر بھارت کی برتری تسلیم نہیں کر سکتے۔

بھارت کو بے شک عددی برتری حاصل ہے، جدید ٹیکنالوجی اس کے پاس ہے لیکن جن کے دل میں جذبہ شہادت موجزن ہو وہ کسی سے  بھی  ٹکرانے کی اہلیت رکھتے ہیں تو صاحبان! میرا مشورہ ہے کہ اپنے محافظوں پر اعتبار کریں اور یاد رکھیں کہ اس زمیں کا چپہ چپہ خدائے رب کریم کی امانت ہے اور اس قوم کو اس فوج  کو اس امانت کا دفاع کرنا خوب آتا ہے۔

جس قوم کی سپاہ کی سب سے بڑی آرزو شہادت ہو اس قوم کو، اس کے جذبے کو  کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی کہ پاکستان پاکستان کے پاکستان کی ایٹمی قوت نواز شریف بھارت کی رہے ہیں رہے تھے تھے کہ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا