پاکستان کو بھارت پر روایتی جنگ میں واضح اور فیصلہ کن برتری حاصل ہو چکی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 مئی2025ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کو بھارت پر روایتی جنگ میں واضح اور فیصلہ کن برتری حاصل ہو چکی ہے، پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارت کے پانچ جنگی طیارے اور اب تک 77 ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا جو پاکستان کی فضائی صلاحیتوں اورفوجی برتری کا واضح ثبوت ہیں۔
جمعہ کو اپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے تاہم کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرنا ہمارا قانونی، اخلاقی اور ریاستی حق ہے، پاکستان نے اپنا یہ حق ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا ہے اور کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بھارت نے نہ صرف عسکری محاذ پر اشتعال انگیزی کی بلکہ اپنے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے داخلی سطح پر میڈیا پر بدترین پروپیگنڈا مہم شروع کی۔(جاری ہے)
بھارتی میڈیا پر منظم انداز میں فیک نیوز، پرانی تصاویر اور جعلی وڈیوز کے ذریعے ایک جھوٹا بیانیہ گھڑا جا رہا ہے جو بھارتی حکومت کی گھبراہٹ، ناکامی اور بدحواسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کا جھوٹا پروپیگنڈا بھرپور طریقے سے بے نقاب کیا جس سے بھارت کو مزید ہزیمت اٹھانا پڑی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جھوٹے بیانیے کے ذریعے بھارت نے اپنی ناکامی چھپانے کی ناکام کوشش کی جسے پوری دنیا نے دیکھا اور بھارت کو مزید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وفاقی وزیر نے کہا کہ
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔