آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا اولین ترجیح ہے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا اولین ترجیح ہے، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 9 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا اولین ترجیح ہے غریب اور متوسط طبقے کی مالی مشکلات میں کمی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی بجٹ 2025-2026 کی تیاری کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ممتاز کاروباری شخصیات اور ماہرین سے بجٹ پر مشاورت کی گئی۔وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہے،
آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا اولین ترجیح ہے، غریب اور متوسط طبقے کی مالی مشکلات میں کمی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ شہباز شریف نے وزیراعظم کی وفاقی بجٹ کی تیاری میں برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی پر توجہ مرکوز بنانے کی ہدایت کردی، صنعتوں کے فروغ اور پیداوار میں اضافے کے لئے منصوبوں پر کام کیا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت دے کر عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہماری حکومت کی ترجیح ہے،
وفاقی بجٹ تیار کرتے ہوئے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے، وفاقی بجٹ میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور ہاسنگ کے شعبوں پر بھرپور توجہ دی جائے کیونکہ ان تمام شعبوں میں بے حد استعداد موجود ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں کا فروغ اگلے بجٹ میں حکومتی ترجیح ہوگی، پاور سیکٹر میں حکومتی اصلاحات کے مثبت نتائج آرہے ہیں؛ صنعتوں کے لئے بجلی کی قیمتوں میں کمی حکومت کی صنعت و پیداوار کے فروغ کی جانب ایک اہم اقدام ہے، حکومتی نظام کو شفاف بنانے، کاروباری برادری، سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے آٹومیشن اور ڈیجیٹایزیشن کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے حجم کو کم کرنے کے حوالے سے رائٹ سائزنگ کا عمل اگلے مالی سال میں بھی جاری رکھا جائے گا۔اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ بجٹ تیاری کے حوالے سے نجی شعبے سے مشاورت کا گزشتہ تین ماہ سے جاری ہے، بجٹ کی تیاری کے حوالے سے معیشت کے مختلف شعبوں سے اسٹیک ہولڈرز مشاورتی سیشنز کئے گئے، 2025-2030 تک کا پانچ سالہ ٹریڈ پالیسی فریم ورک جلد مکمل کر لیا جائے گا، ای کامرس 2.
وزیراعظم نے نجی شعبے سے تعلق رکھنے والی ممتاز کاروباری شخصیات اور ماہرین کی تجاویز کا خیر مقدم کیا اور ان کی قابل عمل تجاویز کو بجٹ میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، معاون خصوصی صنعت ہارون اختر اور متعلقہ اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمہارت یا ٹیکنالوجی کا کمال:پاک فوج کے ہاتھوں تباہ رافیل طیاروں کے بھارتی پائلٹس نے کیسے جان بچائی؟ مہارت یا ٹیکنالوجی کا کمال:پاک فوج کے ہاتھوں تباہ رافیل طیاروں کے بھارتی پائلٹس نے کیسے جان بچائی؟ بھارت ہمیشہ دہشتگردی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال کر سیاسی فائدہ اٹھاتا ہے: پاک فوج پی ٹی آئی رہنما میاں عباد فاروق کوٹ کھپت جیل سے رہا پانچ طیارے، 77ڈرونز گرا کر پاکستان کو روایتی جنگ میں بھارت پر برتری حاصل ہوچکی، عطاء تارڑ بھارت نے تحقیقات کی پیشکش نہ مان کر جارحیت اختیار کی، جوابی کارروائی ہمارا حق ہے، پاکستان پاک فوج کی جوابی کارروائی، دشمن کے 77 ڈرونز زمین بوسCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :