بھارتی جارحیت پر بھرپور جوابی کارروائیوں کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
ڈرون حملوں میں شہید ایک ایک پاکستانی کے خون کا حساب لیا جائے گا، فورم
ہمیں اپنی پاک فوج پر فخر ہے ،ہم ہر حالات کے لیے تیار ہیں، شہبازشریف
وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیر صدارت اجلاس میں بھارتی جارحیت پر بھرپور جوابی کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جمعرات کو وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت سیکیورٹی سے متعلق اجلاس میں بھارتی جارحیت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں اعلیٰ سول اور عسکری قیادت ،وفاقی وزرا اور سیکیورٹی حکام بھی شریک ہوئے ،اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اجلاس میں شرکت کے لیے وزیراعظم ہاؤس پہنچے ۔اجلاس میں سیکیورٹی حکام کی جانب سے اجلاس کے شرکا کو بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں بھارتی جارحیت اور اشتعال انگیزی پر بھرپور جوابی کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ شرکا کو ڈرون حملوں اور پاکستانی ردعمل سے بھی آگاہ کیا گیا۔پاکستانی قیادت نے بھارتی حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بھارت کے 25 اسرائیلی ڈرون مار گرائے گئے ۔فورم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈرون حملوں میں شہید ہونے والوں کا بدلہ لیا جائے گا، ایک ایک پاکستانی کے خون کا حساب لیا جائے گا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے ، ہمیں اپنی پاک فوج پر فخر ہے اور ہم ہر حالات کے لیے تیار ہیں، پاکستان نے بھارت کے ڈرون اور جہاز مار گرائے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنے وقار اور عزت سے امن کے لیے پر عزم ہے ، پاک افواج دشمن کے عزائم ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے ، دشمن کو خود ارادیت، علاقائی سالمیت پر حملے اور سلامتی کی خلاف ورزی کا جواب ملے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بھارتی جارحیت اجلاس میں کے لیے
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔