مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو شکایتی خط لکھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی کیس، 2 ججز کا اختلافی نوٹ سامنے آگیا

جسٹس عائشہ ملک نے چیف جسٹس کے نام خط میں کہا کہ مخصوص نشستوں کے کیس میں آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ ہمارا آرڈر اپلوڈ نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے کیس میں جسٹس عقیل عباسی اور میں نے اختلاف کیا تھا اور گزشتہ روز 3 بجکر 11 منٹ پر اپنا آرڈر جاری کیا لیکن آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نےہمارا آرڈر اپلوذ نہیں کیا۔

مزید پڑھیے: 23ایم این ایز پی ٹی آئی سے فارغ،فہرست خان کے پاس پہنچ گئی: فواد چوہدری

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آج دوبارہ پوچھنے پر آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ والوں نے بتایا کہ وہ لوگ یہ آرڈر اپلوڈ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے عدم تعمیل ناقابل برداشت ہے۔

چیف جسٹس کے نام اپنے خط میں جسٹس عائشہ ملک نے ان سے درخواست کی کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے آرڈر اپلوڈ کروائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جسٹس عائشہ ملک جسٹس عائشہ ملک کا چیف جسٹس کو خط جسٹس عائشہ ملک کا شکایتی خط مخصوص نشستوں کا معاملہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جسٹس عائشہ ملک جسٹس عائشہ ملک کا چیف جسٹس کو خط مخصوص نشستوں کا معاملہ جسٹس عائشہ ملک نے مخصوص نشستوں کے چیف جسٹس کہا کہ

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور