مودی سرکار کا جنگی جنون بے قابو ہوتا جارہا ہے۔ شب کی تاریکی میں بے گناہ شہریوں کو ہدف بنانا بھارت کا ہی خاصہ ہے ۔ عددی برتری کا زعم خاک میں مل گیا۔ پانچ طیارے اور ڈرون راکھ کا ڈھیر بن گئے ۔بے گناہوں کا خون بہا کر مودی سرکار فتح کے شادیانے بجا رہی ہے ۔یہ ڈھٹائی بھی بھارت کا ہی خاصہ ہے۔ دنیا جان چکی ہے کہ بھارتی میڈیا جھوٹ تخلیق کرنے کا کارخانہ ہے۔ موجودہ دور میں بھارت شاید وہ واحد ملک ہے جس نے طیارہ تباہ کروا کر گرفتار ہونے والے ہوا باز کو عسکری اعزاز سے نوازا۔ شنید ہے کہ پاکستان میں درگت بنوانے والے ابھی نندن کی جھوٹی شجاعت کی داستان بیان کرنے کے لیے فلم بنائی جا رہی ہے۔ پہلگام میں دہشت گردی کا ڈرامہ کروا کے مودی سرکار جو حاصل کرنا چاہ رہی تھی وہ عیا ں ہو گیا ۔چھ اور سات مئی کی درمیانی شب پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی نے سب کچھ بیان کر دیا ۔دنیا جان گئی کہ پاکستان کے خدشات 100 فیصد درست تھے۔ مودی سرکار کی فوجی مہم جوئی خطے کے امن کو تہہ و بالا کر سکتی ہے ۔حملے میں پہل بھارت نے کی ہے ۔ مستعد فضائیہ اور بری فوج نے دندان شکن دفاع کیا ۔ واضح رہے کہ جواب دینا ابھی باقی ہے۔
گرے ہوئے پانچ طیارے اور ڈرون تو اس سیندوری شرارت کا خمیازہ ہے جو بھارت نے خود کی تھی ۔پاکستان کا جواب ابھی آنا باقی ہے ۔ جواب آئے گا اور بھارت کے ہوش و حواس اڑا دے گا۔ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے ۔ مودی جیسے شاطر اور شدت پسند جنونی کی طرح پاکستان خون کی ندیاں بہا کر فتح کی جھوٹی کہانیاں نہیں تراشتا ۔ماضی میں بھی بالاکوٹ کی شر پسندی کا جواب دن کی روشنی میں دے کے بھارت کے غرور کو خاک میں ملایا گیا تھا ۔لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے پار بھارت کے سورما اپنے زخموں کو چاٹ رہے ہیں۔ خود بھارتی سینا تسلیم کر رہی کہ ان کے کسی طیارے نے پاکستانی سرحد عبور نہیں کی۔ خیالی دہشت گردی مراکز پر حملے کرنے کے شوق میں پانچ طیارے تباہ کروا لیے۔ کمال یہ ہے کہ پاکستانی افواج نے بنا سرحد عبور کیے بھارتی طیارے خاکستر کر دیئے ۔
بھارت کی ہزمیت کا یہ پہلو بہت مضحکہ خیز ہے کہ جب بھی پاکستان کے خلاف مہم جوئی کی؛ اپنے ہی طیارے تباہ کروا لیے۔ اس ہزیمت کو گودی میڈیا فتح کی داستان بنانے کا ماہر ہے ۔بعد میں بالی وڈ کی فلم انڈسٹری اس شرمناک کارگردگی کو بھارتی سینا کی جیت کا رنگ دے گی۔ عالمی میڈیا سوال کر رہا ہے کہ تباہ ہونے والے طیاروں کا ذکر ہندوستانی میڈیا پر کیوں نہیں ہو رہا ؟خوف کا یہ عالم ہے کہ پورا بھارت میں سول ڈیفنس کے تحت جنگی مشقیں کر رہا ہے۔ جھوٹ بولنا اور اس پر ڈٹ جانا بھارت کا وطیرہ ہے ۔مودی سرکار اس مکاری میں مہارت رکھتی ہے۔ دہشت گردی کا الزام تو لگا دیا لیکن ثبوت کوئی نہیں ۔ پاکستان نے نہایت جراتمندی کے ساتھ غیر جانبدار شفاف تحقیقات کی پیشکش کی۔ اس میدان میں بھارت چاروں شانے چت ہو گیا ۔تحقیقات ہو جائیں تو بھارت کا جھوٹ بے نقاب ہو جائے گا۔ پاکستان کے چھ مقامات پر بزدلانہ حملے کے بعد اب مودی سرکار اپنے تباہ شدہ طیاروں کی راکھ اڑا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے ۔
فرانس سے خریدے گئے رافیل طیارے بھی بھارت کی بزدلی کو چھپا نہ سکے ۔عسکری اور سفارتی محاذ پر پاکستان کا پلہ بھاری ہے۔ بھارت نے عالمی قوانین کو پامال کیا ۔مودی سرکار پر جنگی جنون طاری ہے۔ ہندوستانی میڈیا کے زہریلے پروپگنڈے کی بدولت پورے خطے کا امن دا پر لگ چکا ہے ۔یہ امر شک سے بالا ہے کہ مودی سرکار مسلم دشمنی اور پاکستان دشمنی کے جنون میں عقل و خرد کھو چکی ہے ۔ہندوستان نے بیک وقت آبی جارحیت ،فوجی مہم جوئی، سرحد پار دہشت گردی اور پروپگنڈے کے ہتھیار سے پاکستان کے وجود پر حملہ کیا ہے۔ قوم متحد ہے اور یہ توقع کرتی ہے کہ تمام ادارے اور سیاسی قوتیں متحد ہو کر پاکستان کا دفاع کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاکستان کے مودی سرکار بھارت کا
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔