فلپائن: سمندری طوفان کی تباہ کاریاں، ہلاکتیں 114 ہوگئیں، ملک آفت زدہ قرار
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
فلپائن میں سمندری طوفان کلمیگی کے نتیجے میں 114 افراد کی ہلاکت کے بعد صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر نے ملک کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق رواں سال فلپائن سے ٹکرانے والے سب سے طاقتور طوفانوں میں سے ایک ہے، طوفان کے نتیجے میں فلپائن کے سب سے زیادہ آبادی والے جزیرے سیبو میں 71 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
حکام کے مطابق 127 افراد لاپتہ اور 82 زخمی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سیبو کے صوبائی حکام نے مزید 28 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے لیکن نیشنل سیول ڈیفینس کے دفتر نے انہیں طوفان سے ہونے والی کل اموات میں شامل نہیں کیا ہے۔
میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے صدر مارکوس جونیئر کا کہنا تھا کہ انھوں نے ملک کو آفت زدہ قرار دینے کا فیصلہ ٹائفون کلمیگی سے ہونے والے نقصانات کے ساتھ ساتھ ایک اور طوفان اوان کی پیش گوئی کی وجہ سے کیا ہے جو ہفتے کے آخر میں فلپائن ٹکرا سکتا ہے۔
آج صبح طوفان فلپائن سے نکل کر وسطی ویتنام کی جانب بڑھ گیا ہے، طوفان کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ کل وسطی ویتنام سے ٹکرائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔