پاک بھارت سیز فائر؛ ثانیہ مرزا کے بعد شعیب ملک کا بھی بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
پاک بھارت سیزفائر کے اعلان کے بعد سابق کرکٹر شعیب ملک اور ان کی سابقہ اہلیہ بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کے بیانات سامنے آگئے۔
سابق کرکٹر شعیب ملک نے انسٹاگرام پر اپنی پوسٹ میں پاک بھارت سیز فائر کا خیر مقدم کیا۔
انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہماری افواج نے بہادری کی وہ داستانیں رقم کی ہیں جنھیں لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
شعیب ملک نے مزید کہا کہ پاک فوج کی امن و امان اور استحکام سے وابستگی پوری دنیا کے لیے مشعل راہ ہے۔
سابق کرکٹر نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا اور پاک فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپ پر فخر ہے۔
شعیب ملک کی سابقہ اہلیہ ثانیہ مرزا کا تعلق بھارت سے تھا اور وہ ٹینس اسٹار تھیں۔ ثانیہ نے بھی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا۔
خیال رہے کہ پاک فوج کے آپریشن بُنیان مّرصُوص میں ہونے والے نقصان کو دیکھ کر بھارت سیز فائر پر مجبور ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شعیب ملک
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔