ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات، دونوں ایک دوسرے کے مواقف سے زیادہ قریب ہوئے
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
ایران کے وزیر خارجہ نے امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے چوتھے دور کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں بتایا ہے کہ بنیادی اختلافی موضوعات کے بارے میں زیادہ گفتگو ہوئی اور اس حوالے سے افہام و تفہیم کا عمل بہتر طور پر انجام پایا۔ اسلام ٹائمز۔ ارنا کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے چوتھے دور کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں بتایا ہے کہ بنیادی اختلافی موضوعات کے بارے میں زیادہ گفتگو ہوئی اور اس حوالے سے افہام و تفہیم کا عمل بہتر طور پر انجام پایا۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات کے اس دور میں دونوں فریقوں کے مواقف ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہوئے ہیں۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بتایا کہ ہم نے مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور دونوں فریق مذاکرات جاری رکھنے پر مصمم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اگلی میٹنگ پر اتفاق ہوگیا ہے لیکن اس کی جگہ اور وقت کا تعین دونوں فریقوں کے پروگراموں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ وزیرخاجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کے اگلے دور کی جگہ اور وقت کا تعین عمانی وزیر خارجہ کے ذمہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مذاکرات کے
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔