ہندوستان کا غرور خاک میں مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی جانب سے ایک دوسرے کو ترکی بہ ترکی جواب ہو گیا۔ دونوں ملکوں کو اب رک جانا چاہیے انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی بھی پیشکش کی اور کہا کہ اگر میں مدد کے لیے کچھ کر سکتا ہوں تو میں حاضر ہوں ۔ ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں دونوں ممالک کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں ۔
میں چاہتا ہوںکہ یہ معاملہ وہ خود حل کریں ۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ رُک جائیں ۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر میں کسی بھی طرح سے مددکر سکتا ہوں تو میں وہاں موجود ہوں گا۔ انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان اب ایک دوسرے پر حملے بند کریں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان دونوں ممالک کو ان کے اختلافات دور کرنے میں مدد کی پیشکش کی ۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت کے بعد پاکستانی اور بھارتی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کا رابطہ ہوا ہے۔ بھارت کو پاکستان پر کیے گئے حالیہ جارحانہ آپریشن سندور کے دوران بدترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔956 ملین امریکی ڈالر یعنی 267ارب روپے کے جنگی طیارے تباہ ہو گئے جن میں تین رافیل ایک SU-30، ایک مگ29طیارے شامل ہیں ۔ جب کہ ایک رافیل طیارے کی قیمت 288ملین ڈالر یعنی 80ارب سے زائد ہے ۔
بھارت نے 6مئی کی رات جب پاکستان پر اچانک حملہ کیا ۔ یہ تاریخ میری ہی دی ہوئی تھی ۔ اس وقت 40سے زائد مسافر پروازیں فضاؤں میں تھیں اس حملے نے ہزاروں مسافروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی تھیں ۔ 6مئی کو ہی بھارت نے لائن آف کنٹرول پر پاکستان ائیر فورس کے بہادرانہ جوابی حملے کے جواب میں سفید جھنڈا لہرا کر اپنی شکست تسلیم کرلی کیونکہ عالمی جنگی قوانین کے مطابق حالت جنگ کے دوران دشمن کی جانب سے سفید پرچم لہرانے کو شکست تسلیم کرنا سمجھا جاتا ہے ۔ سفید پرچم لہرانے کی تاریخ 200قبل مسیح سے بھی پرانی ہے ۔ اسے پہلی بار 1899میں عالمی جنگی قوانین کا حصہ بنایا گیا۔ اس سے قبل پندرھویں اور سولہویں صدی میں امریکی خانہ جنگی کے دوران ہی سفید پرچم لہرانے کی تاریخ ملتی ہے ۔
جنگ بند ہونے کے بعد پاکستان کے لیے سب سے سنگین مسئلہ بھارت سے آنے والے پانی کی بحالی ہے ۔ کسی بھی طویل فوجی تصادم کی صورت میں ملک کی معاشی بقاء کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔ " انشاء اﷲ تعالی یہ تصادم طویل ہر گز نہیں ہوگا ۔بلکہ مختصرہو گا۔ " برطانوی اخبار میں لکھے گئے مضمون میں کہا گیا ہے کہ موڈیز کی جانب سے جاری انتباہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت سے کشیدگی پاکستان کی معاشی بحالی ، مالی نظم وضبط اورIMFپروگرام کو متاثر کر سکتی ہے ۔ پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر محض تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں جب کہ بیرونی قرضہ 131ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے ۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کسی بھی نئی جنگی مہم جوئی سے غیر ملکی سرمایہ کاری رک سکتی ہے ۔
خوش خبری ، خوش خبری۔ بھارتی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم پاکستان سے کشیدگی ختم کرنا چاہتے ہیں ۔بھارت سیز فائر پرراضی ہو گیا ۔ تازہ ترین 10مئی کی صبح کی خبر ۔ یورپی یونین ہو یا چین پاکستان بھارت پر پوری دنیا کا شدید دباؤ ہے کہ دونوں جنگ کو بڑھنے سے روکیں ۔ امریکا نے کہا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے ۔ جب اس سے پہلے 9مئی کو امریکی نائب صدر نے ٹرمپ کے ثالثی موقف کے خلاف پاکستان ، انڈیا جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا ۔ لگتا ہے کہ امریکی نائب صدر اپنی انڈین نثراد بیوی اُوشا کے زیر اثر آگئے تھے ۔
بہرحال یہ تو جملہ معترضہ ہے ۔ لیکن پاکستان کے پانچ گھنٹے کے جوابی حملے نے ہندوستان کا غرور خاک میں ملادیاکہ بھارتی فوج کے ترجمان کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ وہ پاکستان سے کشیدگی ختم کرنے کے لیے تیار ہے ۔ اس کے جواب میں پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی کہا کہ اگر بھارت پیچھے ہٹنے کو تیار ہے تو پاکستان بھی ایسا کر سکتا ہے ۔
اب سب سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ پہل گام حملے کا بینفیشری کون ہے ؟یہ انتہائی اہم نکتہ ہے۔ جس میں بہت سے راز پوشیدہ ہیں ۔ آپ بھی اس پر غور کریں ۔ مجھے تو اس کا اندازہ ہے جس کا اظہار گزشتہ برسوں سے ماضی قریب تک کے کالموں میں کرتا چلا آرہا ہوں ۔بہرحال یہ نئی گریٹ گیم کا آغاز ہے ۔
6مئی کے حوالے سے مزید اہم تاریخیں 15,14,13 مئی اور اس کے درمیان کا عرصہ ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا ہے کہ کے درمیان کہ بھارت کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔
Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a
— iffi (@iffiViews) July 22, 2026
طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل