چھالیہ کے دو اسمگلرز کو 35 سال قید کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
کراچی:
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 6 نے چھالیہ کے 2 اسمگلرز کو مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزا سنادی۔
کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشت گردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت نمبر 6 نے چھالیہ اسمگلنگ کرنے کے مقدمے کا فیصلہ سنادیا جس میں چھالیہ کے دو اسمگلرز کو مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزا سنادی گئی۔
عدالت نے ملزمان امین اللہ اور سمیع اللہ کو مجموعی طور پر 2 لاکھ 80 ہزار فی کس جرمانہ بھی عائد کرنے کا حکم دیا۔ فیصلے کے فوراً بعد دونوں ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔
ملزمان کے خلاف کسٹم حکام نے یکم اپریل 2024ء کو موچکو تھانے میں مقدمہ درج کرایا تھا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق حب سے کراچی چھالیہ اسمگل کرنے کی اطلاعات ملی تھیں، ملزمان کو ناردرن بائی پاس سے گرفتارکیا گیا تھا۔
ملزمان سے 70 بوری چھالیہ برآمد ہوئی، ملزمان کو لے کر موچکو کے قریب پہنچے تو وہاں 25 سے 30 مسلح لوگوں نے حملہ کیا، فائرنگ کے تبادلے میں ایک ملزم زخمی بھی ہوا، مسلح افراد گرفتار ملزمان کو چھڑانے میں کامیاب ہوگئے تھے، کچھ دن کے بعد دونوں ملزمان کو گرفتارکرلیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملزمان کو
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔