پڑوسن کے بلے کو کھانا کھلانے پر تھانہ کچہری، غیرمعمولی کیس کا عجیب انجام
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
ایک 68 سالہ سوئس خاتون کو ان کی پڑوسن نے اپنے پالتو بلے کو متواتر کھانا کھلانے پر عدالت میں گھسیٹ لیا۔ تاہم جتنا یہ کیس غیر معمولی تھا اس کا انجام بھی کچھ کم عجیب و غریب نہیں نکلا۔
یہ بھی پڑھیں: مرغیاں محلے کا سکون تباہ کرتی ہیں، خاتون نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹادیا
درخواست گزار نے کہا کہ میری پڑوسن نے میرے پالتو بلے کو مہینوں تک منظم طریقے سے کھانا کھلایا جبکہ میں نے انہیں تحریری طور پر ایسا کرنے سے منع کیا تھا۔
یہ غیر معمولی واقعہ زیورخ میں پیش آیا جہاں ایک خاتون پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی پڑوسن کا بلا چرانے اور اس کو اپنی جانب راغب کرنے کی نیت سے 10 ماہ تک کھانا کھلایا۔
مدعی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے خاتون کو بار بار مطلع کیا، یہاں تک کہ تحریری طور پر بھی کہا کہ میرے ’لیو‘ کو کھانا کھلانا بند کریں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
مزید پڑھیے: دنیا کے سب سے لمبے اور چھوٹے کتوں کی ریکارڈ ملاقات کیسی رہی؟
درخواست گزار نے کہا کہ ان کی پڑوسن نے نہ صرف لیو کو کھانا کھلانا جاری رکھا بلکہ انہوں نے اپنے دروازے پر ’کیٹ فلیپ‘ بھی لگا دیا تاکہ بلا اپنی مرضی کے مطابق آ جا سکے۔ نتیجے کے طور پر تھوڑے دنوں بعد بلے نے اپنی اصل مالکہ کے پاس واپس جانا بند کر دیا جس سے اس کے لیے روزانہ تیار کیا جانے والا کھانا ضائع ہونے لگا۔
پڑوسن نے اپنی پینشنر پڑوسن کے خلاف ایک کرمنل ایپلی کیشن درج کروائی اور پبلک پراسیکیوٹر نے ملزمہ کو 800 سوئس فرانک ($950) جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا اور غیر قانونی تخصیص پر 3600 فرانک ($4,273) کا جرمانہ بھی جاری کیا۔ لیکن 68 سالہ خاتون نے رقم ادا کرنے سے انکار کر دیا لہٰذا کیس اب عدالت میں چلا گیا ہے۔
سوئس قانون کے مطابق کبھی کبھار کسی اور کی پالتو بلی کو کھانا کھلانا قابل سزا جرم نہیں ہے لیکن منظم طریقے سے ایسا کرنے کے قانونی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں کیونکہ بلیوں کو ان کے مالک کی ملکیت سمجھا جاتا ہے اور انہیں کھانا کھلانا غیر قانونی تخصیص سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس کیس میں مدعا علیہ نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا۔
کیس کا حیرت انگیز انجامگزشتہ ہفتے دونوں پڑوسنیں اپنے اپنے وکلا کے ساتھ زیورخ ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش ہوئیں تاکہ اپنی پریشانی کا حل تلاش کریں۔ ان کی ملاقات بند کمرے میں ہوئی تھی اس لیے زیادہ تفصیلات باہر نہیں آسکیں۔ لیکن نتیجہ اخبارات کی سرخیوں میں آگیا۔
مزید پڑھیں: ’چیز از فنٹاسٹک‘، اضافی پنیر نہ ملنے پر مہمان نے شادی ہال میں بس گھسیڑ دی
تصفیے کے معاہدے کے نتیجے میں 68 سالہ خاتون جن پر تقریباً ایک سال تک لیو کو منظم طریقے سے کھانا کھلانے کا الزام اب بلے کو اپنے پاس رکھ سکتی ہیں اور سابقہ مالکن نے اپنی شکایت واپس لے لی ہے۔
یہ ایک غیر معمولی قانونی جنگ کا عجیب و غریب اختتام تھا، آپ کا کیا خیال ہے؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلے کا مقدمہ بلے کو کھلانا مہنگا پڑگیا سوئس خاتون عجیب و غریب مقدمہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلے کا مقدمہ سوئس خاتون کھانا کھلانا کو کھانا پڑوسن نے نے اپنے نے اپنی بلے کو
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔