راولپنڈی میں ڈمپر کی ٹکر سے خاتون سمیت دو افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
راولپنڈی:
تھانہ کینٹ کے علاقے میں پیش آنے والے ایک افسوسناک حادثے میں تیز رفتار ڈمپر رکشہ پر چڑھ گیا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت دو افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ موٹر سائیکل سوار بھی کچلے گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ڈمپر بے قابو ہو کر پہلے رکشہ سے ٹکرایا اور پھر موٹر سائیکل سواروں کو روندتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ واقعے کے بعد موقع پر موجود شہریوں نے فوری طور پر ڈمپر ڈرائیور کو قابو میں کرکے پولیس کے حوالے کر دیا۔
شہریوں نے واقعے کے بعد ٹریفک پولیس پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ڈرائیور کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اقدامات کیے جاتے تو یہ جان لیوا حادثہ روکا جا سکتا تھا۔
سینئر پولیس افسر بھی موقع پر پہنچے اور ڈمپر ڈرائیور کو پولیس گاڑی میں بٹھا کر تھانے منتقل کیا گیا۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مال روڈ پر جاری تعمیراتی کام کے سلسلے میں استعمال ہونے والے بھاری ڈمپرز کو صرف رات کے اوقات میں داخلے کی اجازت دی جائے تاکہ شہریوں کی زندگی محفوظ رہ سکے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔