طیارہ گرنے کا بالواسطہ بھارتی اعتراف، رافیل بنانیوالی کمپنی کے شیئرز مزید گرگئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
بھارتی فضائیہ کی جانب سے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی میں بھارتی طیارے گرنے کا بالواسطہ اعتراف کرنے بعد رافیل طیارے بنانے والی فرانسیسی کمپنی کے شیئرز مزید گرگئے۔
گزشتہ روز بھارت کی مسلح افواج کے افسران کی میڈيا بریفنگ میں بھارتی ائیر مارشل اے کے بھارتی سے پوچھا گیا کہ کیا آپ رافیل طیارہ گرائے جانے کی تصدیق کرتے ہیں؟ اس کے جواب میں کہاکہ نقصانات لڑائی کا حصہ ہوتے ہیں اور میں اس سے زیادہ تفصیل نہيں بتاسکتا، اس سے فریق مخالف کو فائدہ ہوتا ہے۔
ائیر مارشل اے کے بھارتی کے اس اعتراف کے بعد رافیل بنانے والی فرانسیسی کمپنی ڈاسو ایوی ایشن کے شیئرز آج مزید 5.
گزشتہ 5 روز کے دوران داسو ایوی ایشن کے شیئرز کی قدر میں مجموعی طور پر 10.33 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ اس سے پہلے کے 5 روز کے دوران کمپنی کے شیئرز میں 3.4 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
خیال رہے کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارتی طیاروں نے پاکستان میں مختلف مقامات پر حملے کیے جس کا فوری اور منہ توڑ جواب دیتے ہوئے پاکستان کی مسلح افواج نے 3 رافیل طیاروں سمیت 5 بھارتی طیارے تباہ کردیے۔ Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے شیئرز
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔