ابوظہبی کی عدالت کی تاریخ کے سب سے بڑے "طلاق کیس" کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
ابوظہبی ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ 12 مئی 2025ء ) ابوظہبی کی عدالت کی تاریخ کے سب سے بڑے "طلاق کیس" کا فیصلہ ، خاتون کو کروڑں درہم ملیں گے۔ خلیجی خبر رساں ادارے دی نیشنل نیوز کی خبر کے مطابق ابوظہبی کی سول فیملی عدالت کی جانب سے اپنی تاریخ کے سب سے بڑے علیحدگی کیس کا غیر معمولی فیصلہ سنایا گیا ہے۔ خبر کے مطابق برطانیہ میں شادی کرنے والا جوڑا جو اب ابوظہبی میں رہائش پذیر ہے، جوڑے کی جانب سے مارچ 2025 میں علیحدگی کیلئے ابوظہبی کی سول فیملی عدالت سے رجوع کیا گیا۔
(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ شوہر کا تعلق برطانیہ جبکہ خاتون کا تعلق امریکا سے ہے، تاہم ابوظہبی میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے دونوں نے ابوظہبی کی سول فیملی عدالت سے رجوع کیا۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے دونوں کو علیحدگی حاصل کرنے کی اجازت دے دی۔ اس فیصلے کے تحت خاتون کو 10 کروڑ درہم کی رقم ملے گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ابوظہبی میں کسی بھی غیر ملکی خاتون کو علیحدگی کے نتیجے میں ملنے والی سب سے بڑی رقم ہے۔ جبکہ علیحدگی کے سمجھوتے کے تحت خاتون کے شوہر کو بھی بڑی رقم ملے گی، تاہم رقم کی تفصیلات معلوم نہ ہو سکیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ابوظہبی کی
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔