کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس کا عبوری چالان انسداد دہشتگردی عدالت میں جمع
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
کراچی کے رہائشی نوجوان مصطفیٰ عامر کے قتل کیس میں تفتیشی افسر نے عبوری چالان انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) میں جمع کروادیا۔
چالان کے متن میں کہا گیا کہ کیس میں ملزم ارمغان اور شیراز گرفتار ہیں، مصطفیٰ عامر کے اغواء کا مقدمہ مقتول کی والدہ کی مدعیت میں درج ہے، 14 فروری 2025ء کو ملزم شیراز کو اختر کالونی سے گرفتار کیا، ملزم شیراز کا بیان بھی عبوری چالان میں شامل ہے، ملزم شیراز نے دوران تفتیش اعتراف جرم کیا۔
متن کے مطابق ملزم ارمغان اور شیراز نے جائے وقوعہ کی نشاندہی بھی کروائی، ملزم نے جس ہوٹل پر ناشتہ کیا اس کے ویٹر کا بیان بھی لیا گیا، لاش سے حاصل ڈی این اے سے مقتول کی شناخت کی گئی۔
عبوری چالان میں کہا گیا کہ ملزم کے ذاتی استعمال کے لیپ ٹاپ کو فرانزک کے لیے بھیجا ہے، ملزم کی نشاندہی پر زیر استعمال موبائل فون بھی برآمد کیا ہے، ملزم شیراز اور ارمغان نے ایس ایس پی کے روبرو اعتراف جرم کی ویڈیو ریکارڈ کروائی، ارمغان کے ہاتھوں زخمی ہونے والی لڑکی کا بیان ریکارڈ کیا گیا، ملزم ارمغان کے 2 ملازمین کے 164 کا بیان ریکارڈ کروائے۔
ذرائع ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ارمغان کیس میں 50 افراد کو گواہ بنانے کے لیے اسکرونٹی کی گئی، گواہوں میں ارمغان کے 2 ملازمین بھی شامل ہیں۔
تفتیشی افسر نے متن میں کہا کہ ملزم سے برآمد اسلحے کی تحقیقات سی ٹی ڈی کر رہی ہے، ملزم نے مصطفیٰ کو تشدد کرنے اور گاڑی میں آگ لگا کر قتل کرنے کا اعتراف کیا، ملزم نے حب سے واپسی پر آلہ ضرب، مقتول کے خون آلود کپڑے اور موبائل فون پھینکے کا اعتراف بھی کیا، ملزم کی نشاندہی پر آلہ ضرب برآمد کیا گیا۔
متن کے مطابق پولیس سے مقابلے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی گئی، مصطفیٰ عامر نے ارمغان کے گھر جانے سے پہلے دوست کو اطلاع کی تھی، امریکا میں مقیم اس دوست کا بھی بیان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عبوری چالان میں کہا گیا کہ ملزمان کی واپسی کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی گئی ہے، ملزم ارمغان کی ٹریول ہسٹری بھی حاصل کی گئی ہے، لیپ ٹاپ اور موبائل فون کی رپورٹ تاحال پنجاب فرانزک لیب سے موصول نہیں ہوئی، رپورٹ موصول ہونے کے بعد حتمی چالان پیش کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ مصطفیٰ عامر کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 6 جنوری کو لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی لاش 14 فروری کے روز پولیس کو حب سے ملی تھی، مصطفیٰ کو اس کے بچپن کے دوستوں نے تشدد کرنے کے بعد گاڑی میں بٹھا کر جلایا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عبوری چالان ارمغان کے میں کہا کی گئی
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔