علامہ راجہ ناصر عباس کی زیر صدارت ایم ڈبلیو ایم کی مرکزی کابینہ کا پہلا باضابطہ اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
اجلاس میں نو منتخب اراکین کابینہ نے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بابصیرت اور دلیرانہ قیادت میں اس عزم کا اظہار کیا کہ مجلس وحدت مسلمین ایک نظریاتی، عوامی اور متحرک پلیٹ فارم کے طور پر ملک وملت کی ترقی واستحکام کیلئے پہلے سے زیادہ فعال کردار ادا کرے گی۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی سیکرٹریٹ مجلس وحدت مسلمین پاکستان میں چیئرمین ایم ڈبلیو ایم سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی زیر صدارت نومنتخب مرکزی کابینہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وائس چیئرمین ایم ڈبلیو ایم علامہ سید احمد اقبال رضوی، مرکزی صدر علماء ونگ علامہ سید حسنین عباس گردیزی، مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری انجینئر ظہیر عباس نقوی، مرکزی سیکریٹری رابطہ و ترجمان شہریار رضا زیدی، مرکزی آفس سیکرٹری و ڈپٹی جنرل سیکرٹری ملک اقرار حسین، صدر عزاداری ونگ علامہ اقتدار نقوی اور مرکزی سیکرٹری یوتھ علامہ تصور حسین مہدوی سمیت سلیم عباس صدیقی شریک تھے۔
اجلاس میں موجودہ قومی وبین الاقوامی صورتحال پر گفتگو کی گئی اور پاکستان کی جانب سے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر اطمنان کا اظہار کیا گیا، نو منتخب اراکین کابینہ نے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بابصیرت اور دلیرانہ قیادت میں اس عزم کا اظہار کیا کہ مجلس وحدت مسلمین ایک نظریاتی، عوامی اور متحرک پلیٹ فارم کے طور پر ملک وملت کی ترقی واستحکام کیلئے پہلے سے زیادہ فعال کردار ادا کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔