جنید خان سے متعلق احکامات پر جلد عمل ہوگا: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
بیرسٹر گوہر خان — فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ جنید خان سے متعلق بانی کے احکامات پر جلد عمل کیا جائے گا۔
انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہن نے رات کو مجھے کہا جنید خان سے متعلق بانی نے احکامات دیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت کے مطابق چلتے ہیں، یہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے بانی کی جب ہدایت آتی ہے تو اس پر عمل ہوتا ہے، اس معاملے کو بھی جلد حل کیا جائے گا۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جنید اکبر کو پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمین شپ چھوڑنے کی ہدایت کر دی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کہتا رہا ہے کہ اس کی ثالثی ہو، کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اگر اس میں مداخلت کرتا ہے تو یہ بہتر ہے، پرسوں جو بھارت کو مار پڑی ہے شاید اس کے بعد اب اس مسئلے کا حل ہو جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔