مودی کی پالیسیوں پر تنقید، سابق بھارتی آرمی چیف کا جنگ کے بجائے سفارتی حل پر زور
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) منوج نراونے نے جنگ کے امکانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام تصفیہ طلب مسائل کا واحد پائیدار حل سفارتی بات چیت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کوئی رومانوی تصور یا بالی ووڈ فلم نہیں بلکہ ایک تلخ اور سنجیدہ حقیقت ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
سابق آرمی چیف نے پاک-بھارت جنگ بندی پر بعض حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بطور ایک پیشہ ور فوجی، ان کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارت کاری ہوگی۔ ان کے مطابق، ’’جنگ کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ معصوم شہری، خاص طور پر بچے، اس کے بعد کی ذہنی اذیتوں اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ قومی سلامتی صرف حکومت یا فوج کی نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور جنگ کی حمایت کرنے والوں کو متاثرہ خاندانوں کی حالت زار پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کے بیان سے بھارت کی سبکی اور مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ ہموار، مگر کیسے؟
سابق بھارتی آرمی چیف کے ان بیانات کو مبصرین اور دفاعی ماہرین مسئلہ کشمیر جیسے حساس تنازعے کے حل کے لیے ایک بالغ نظر پیغام قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق جنرل (ر) نراونے کے موقف سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ دیرپا امن کے لیے بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا اور مسئلہ کشمیر کا حل صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
اس سے قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں، تاہم بھارت نے ہمیشہ اس قسم کی کسی بھی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔ مگر اب خود بھارت کے اندر سے، وہ بھی سابق فوجی قیادت کی جانب سے، جنگ کے خلاف آوازیں بلند ہونا ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی خارجہ و داخلہ پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک کی مختلف سماجی، سیاسی اور دانشور طبقوں کی جانب سے بھی جنگ کے بجائے مفاہمت کی حمایت میں آوازیں اٹھ رہی ہیں، جس سے خطے میں پائیدار امن کی امید پیدا ہوئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت پاک بھارت جنگ پاکستان جنرل (ر) منوج نراونے مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاک بھارت جنگ پاکستان جنرل ر منوج نراونے مسئلہ کشمیر جنگ کے
پڑھیں:
ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن
پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔
I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.
Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…
— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026
ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔
مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن
انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔
پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔
مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027