خیبر پختونخوا: مالی اسکینڈل میں ملوث ملزمان کے گھروں سے ایک ارب 59 کروڑ برآمد
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں مالی اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران اہم ملزمان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
پولیس کے جانب سے کی گئی کارروائی کے دوران ملزمان کے گھروں سے پاکستانی کرنسی، امریکی ڈالرز اور سونے سمیت مجموعی طور پر ایک ارب 59 کروڑ روپے کی خطیر رقم برآمد کی گئی۔
تین ملزمان کے گھروں سے 3 کلو سونا جبکہ 12 ملزمان کے گھروں سے ڈیڑھ ارب روپے برآمد کے گئے ہیں۔
پشاورخیبرپختونخوا میں مبینہ طورپر40ارب روپے کے.
اسکینڈل کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے، ملزمان میں اعلیٰ سرکاری افسران اور ٹھیکیدار بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ یہ کارروائی کوہستان اسکینڈل کے پیشِ نظر کی گئی تھی۔
ضلع کوہستان میں سرکاری اکاؤنٹس سے 2020ء سے 2024ء کے درمیان 40 ارب روپے کی خرد برد کی تحقیقات جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ملزمان کے گھروں سے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔