یورپی دارالحکومت برسلز میں افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی اور بھارتی جارحیت کیخلاف پُرامن احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
کراچی:
یورپی دارالحکومت برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کے سامنے پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کی جانب سے ایک پُرامن احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔ اس مظاہرے کا مقصد افواجِ پاکستان سے یکجہتی کا اظہار، بھارت کی حالیہ جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا تھا۔ مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں، کشمیریوں نے بھرپور شرکت کی اور "پاکستان زندہ باد" اور "افواجِ پاکستان پائندہ باد" جیسے نعرے لگا کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ای یو پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ، چودھری پرویز اقبال لوسر اور کمیونٹی راہنما مہر صفدر علی نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے جو ہمیشہ امن کا حامی رہا ہے، مگر ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی افواج کی جانب سے دشمن کو مؤثر جواب دینے اور حالیہ کامیاب آپریشنز پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 25 کروڑ پاکستانی اپنی افواج کے شانہ بشانہ ہیں اور ہر قربانی کے لیے تیار ہیں۔
اس مظاہرے کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ مراکش، الجزائر، ترکی، تیونس اور دیگر اسلامی ممالک کے نوجوانوں نے بھرپور انداز میں پاکستان اور افواجِ پاکستان سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا اور “پاکستان زندہ باد” اور “افواجِ پاکستان زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگا کر اپنے جذبات کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
مقررین نے عالمی برادری، خصوصاً یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے۔ مظاہرے کا اختتام وطنِ عزیز کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعاؤں کے ساتھ ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔