بھارتی چینلز دیکھنے پر لگتا ہے کارٹون نیٹ ورک دیکھ رہا ہوں، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
یومِ اظہار تشکر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاک افواج نے ثابت کیا ہے کہ وطن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی آنکھیں نکال دیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پڑوسی ملک بھارت کے نیوز چینلز پر منفی پروپیگنڈا مہم پر کہا ہے کہ بھارتی چینلز دیکھیں تو لگتا ہے کہ کارٹون نیٹ ورک دیکھ رہا ہوں۔ کراچی میں یومِ اظہار تشکر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ مشکل وقت پر سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہونے پر قوم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، ہماری افواج نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وطن کے دفاع کیلئے ہم تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک افواج نے ثابت کیا ہے کہ وطن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی آنکھیں نکال دیں گے، پاکستان نے پہلگام واقعے کی مذمت کی تھی اور اس کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ بھارت نے بغیر تحقیقات اور ثبوت کے پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے کہا سندھ میں پانی بہے گا یا مودی کا خون بہے گا، بھارت کی سوچ کچھ اور تھی لیکن اللہ نے انہیں رسوا کیا، 7 مئی کو بھارت نے رات کی تاریکی میں نہتے پاکستانیوں کو شہید کیا، اسی وقت پاک فضائیہ نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ بھارت نے دنیا کا بہترین طیارہ تو لے لیا لیکن اس کے پاس بہترین پائلٹ نہیں تھے، بھارت کو اسی دن سمجھ جانا چاہیے تھا کہ جنگ اس کے بس کی بات نہیں، دوسرے دن اسرائیلی ڈرونز بھیجتے رہے اور وہ یہاں گرتے رہے، اس جنگ کا سندھ میں پہلا شہید مختار لغاری ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا سے معلوم ہوا کہ کراچی کی بندرگاہ تباہ ہوگئی، بھارتی چینلز دیکھنے پر لگا کارٹون نیٹ ورک دیکھ رہا ہوں، بھارتی چینلز نے اپنے جھوٹ پر معافیاں مانگیں، 10 مئی کو چند گھنٹوں میں پاک افواج نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، یہاں تک کہ انڈین ملٹری کے ترجمان نے پاکستان کو رُکنے کیلئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے سرنڈر کے اعلان پر بھارتیوں نے مودی پر تنقید کی، فجر سے شروع ہونے والا آپریشن بُنیان مرصوص عصر پر ختم ہوگیا، اللہ کا شکر ہے اس نے یہ کامیابی عطا کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی چینلز مراد علی شاہ نے کہا کہ افواج نے کہ بھارت
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔