جنگی میدان پر شکست نے آئی پی ایل کی چیئرلیڈرز پر پابندی لگوادی
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
بھارتی جارحیت کے جواب اور جنگی میدان پر شکست کے باعث بھارت نے انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے دوبارہ آغاز پر چیئرلیڈرز اور ڈی جیز پر پابندی لگادی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے 17 مئی سے آئی پی ایل کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم غیرملکی کرکٹر سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت کا رخ کرنے سے انکاری ہیں۔
اس سے قبل سابق بھارتی کرکٹر و پاکستان مخالف جذبات کیلئے مشہور سنیل گواسکر نے انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے دوبارہ آغاز پر چیئرلیڈرز اور ڈی جیز کو نہ بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔
مزید پڑھیں: آئی پی ایل میں چیئرلیڈر، ڈی جیز کو نہ بلایا جائے، مگر کیوں؟
انکا کہنا تھا کہ پہلگام واقعہ اور بھارتی جارحیت کے بعد متاثرہ افراد سے اظہار یکجہتی کیلئے آئی پی ایل میں چیئرلیڈرز اور ڈی جیز کو نہ بلایا جائے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر صارفین سوال اٹھارہے ہیں کہ کیا چیئرلیڈر کی وائرل ویڈیو نے بھارت کے سیکیورٹی پلان کی قلعی کھول دی تھی، اس وجہ سے انہیں نہیں بلایا جارہا ہے یا پاکستان کیخلاف اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔
مزید پڑھیں: آئی پی ایل میچ کی منسوخی! چیئرلیڈر نے بھی سیکیورٹی پر سوال اٹھادیا
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں 8 مئی کو شیڈول پنجاب کنگز اور دہلی کیپٹلز کے درمیان کھیلے جارہے میچ کو اچانک منسوخ کردیا گیا تھا جس پر ایک چیئر لیڈر کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں: "نامور کرکٹرز کا آئی پی ایل کھیلنے سے انکار؛ بھارتی بورڈ کو ہضم نہ ہوا"
واضح رہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارتی جارحیت پر پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا تھا جس کے باعث فوجی چوکیوں سمیت 3 رافیل، 2 لڑاکا طیاروں سمیت درجنوں ڈرونز تباہ ہوگئے تھے، جس سے ہندوستانی حکمرانوں کو دنیا بھر میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل ڈی جیز
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔