آپریشن بنیان مرصوص میں تاریخی کامیابی پر یوم تشکر، افواج پاکستان کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارتی جارحیت کے خلاف جوابی کارروائی آپریشن بنیان مرصوص میں تاریخی فتح پر ملک بھر میں آج یو م تشکر منایا جا رہا ہے۔
یوم تشکر کے موقع پر پاکستانی عوام اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، یوم تشکر کے موقع پر دن کا آغاز مسجدوں میں قرآن خوانی اور خصوصی دعاوں سے ہوا جبکہ وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ وفاقی و صوبائی دارالحکومتوں میں پرچم کشائی کی تقریبات بھی منعقد کی جا رہی ہیں۔ملک بھر میں یادگار شہدا پر پھول رکھے جائیں گے اور دعائیہ تقاریب کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔
آپریشن بنیان مرصوص کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے لواحقین سے خصوصی ملاقاتیں ہوں گی اور نماز جمعہ میں بھی پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعاوں کا اہتمام کیا جائے گا۔
یوم تشکر کی نمایاں تقریب آج رات پاکستان مونومنٹ اسلام آباد میں منعقد ہوگی، مرکزی تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعظم ہوں گے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور مسلح افواج کے سربراہان بھی تقریب کا حصہ ہوں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت کی جانب سے کی جانے والی فوجی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے 3 رافیل طیاروں سمیت 5 جنگی طیاروں کو گرایا اور پھر 10 مئی کو اپنی خود مختاری کا دفاع کرتے ہوئے بھارت کو ایسا جواب دیا جسے نہ صرف دنیا نے تسلیم کیا بلکہ بھارت میں بھی اس حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، جب تک کشمیریوں کو آزادی نہیں ملتی، پاکستان پیچھے نہیں ہٹے گا: مشاہد حسین سید
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: یوم تشکر
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔