برطانوی ڈاکٹر نے غزہ کے اسپتال پر اسرائیلی حملے کے بعد کی ہولناک فوٹیج جاری کر دی
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
غزہ میں ایک برطانوی ڈاکٹر نے فوٹیج جاری کی ہے جس میں جمعرات کو جنوبی شہر خان یونس کے قریب اسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے سے ہونے والی تباہی کو دکھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ : اسرائیلی جارحیت میں شدت، شہادتوں کی تعداد 53 ہزار سے متجاوز
کنسلٹنٹ پلاسٹک سرجن ڈاکٹر ٹام پوٹوکر نے برطانوی میڈیا سے ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جو اسپتال پر اسرائیل کے حملے کے بعد کے مناظر پر مشتمل ہے۔
یاد رہے کہ اس اسپتال پر 6 بم گرائے گئے، جس میں 28 افراد شہید ہوگئے تھے۔
ڈاکٹر ٹام پوٹوکر غزہ انکلیو میں پھنسے فلسطینیوں کو اہم علاج فراہم کرنے 16 بار جا چکے ہیں، نے اس فوٹیج کو اسپتال میں کام کرنے کے اپنے تجربے کا ’اسنیپ شاٹ] قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر ٹام پوٹوکر نے بڑے پیمانے پر تباہی کے ذکر ساتھ بتایا کہ حملہ ہوا تو لوگ لوگ بھاگ کر اسپتال کے باہر زمین پر لیٹ گئے۔ ڈاکٹر ٹام پوٹوکر کے مطابق ہر طرف تباہی اور خوف تھا۔
’مکمل تباہی‘ کے طور پر بیان کیے گئے مزید مناظر میں پوٹوکر اسپتال کی راہداریوں سے گزرے جب طبی، مریضوں اور دیگر شہریوں نے حملے کا جواب دینے کی کوشش کی۔
ڈاکٹر ٹام پوٹوکر کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اسپتال پر براہِ راست حملہ کیا ہے۔ بعد میں اس نے اطلاع دی کہ ہسپتال کو مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر پوٹوکر کے مطابق ہم ایسے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں جن میں بڑے کھلے زخم ہیں، جن میں سے کچھ میں میگوٹس بھی ہیں، ان میں انفیکشن، ایک سے زیادہ کٹے ہوئے ہیں، 2 سال تک کے بچوں کو اعصابی اور تکلیف دہ دماغی چوٹیں پہنچی ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق جمعرات کو غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 114 فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی حملہ ڈاکٹر ٹام پوٹوکر، غزہ اسپتال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی حملہ غزہ اسپتال اسپتال پر
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔