WE News:
2026-07-24@06:00:45 GMT

جوش ملیح آبادی، ڈاکٹر رشید جہاں اور آج کی اداکارائیں !

اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT

’اور تو اور عورتوں کی آوازیں اور ان کا وزن بھی پردہ نشیں تھا۔ یعنی کوئی بی بی اس زور سے نہیں بولتی تھی کہ اس کی آواز مردانے میں جائے اور جب کوئی عورت پالکی میں سوار ہوتی تھی تو پتھر کا ٹکڑا یا سل پالکی میں رکھ دیا جاتا تھا کہ کہاروں کو اس کے اصل جسم کا اندازہ نہ ہو سکے اور بیبیاں تو بیبیاں مامائیں، اصیلیں اور لونڈیاں تک پردے کی پابند تھیں۔

زنانے میں آنے والے دس، گیارہ برس کے بچوں سے پردہ کیاجاتا تھا اور مشکوک چال چلن کی عورتوں سے بھی پردہ کیا جاتا تھا۔کسی عورت کی مجال نہیں تھی کہ وہ بزرگوں کے سامنے اپنے بچے کو گود لے لے۔

زنان خانے کی فضا کو مقدس رکھنے کے لیے یہ اہتمام کیا جاتا تھا کہ کسی ترکاری والی کو یہ اجازت  نہیں تھی کہ وہ لانبی ترکاریوں مثلا کھیرے، لوکی، ترئی وغیرہ کو ٹکڑے ٹکڑے کیے بغیر سالم حالت میں اندر لے جائے ۔اس لیے کہ صورت کے لحاظ سے ان ترکاریوں کو فحش سمجھا جاتا تھا۔

اپنے لڑکپن کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ ملیح آباد کے ایک صاحب کے لڑکے کی شادی میں ناچ ہو رہا تھا کہ بالا خانے سے ایک عورت جھک کر دیکھنے لگی۔صاحبان محفل میں سے ایک نے اسے گولی مار دی۔گولی مارنے والے نے صاحب خانہ سے کہا بھائی! آپ کی بیوی جھانک رہی رہی تھی، مجھ سے یہ بے حیائی برداشت نہیں ہوئی، میں نے اسے گولی مار دی۔ صاحب خانہ نے ان کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے کہا، بہت اچھا کیا آپ نے۔ ‘

جوش ملیح آبادی : یادوں کی بارات ؛ (صفحہ نمبر ایک سو ستاسی / اٹھاسی )

یہ تھا بیسویں صدی کے آغاز کا برصغیر جہاں عورت کی یہ وقعت تھی کہ بالا خانے سے جھانکنے پر بیوی کو بھی گولی مارنے پہ خوشی کااظہار کیا جاتا تھا۔

مرد حضرات اپنی عیاشیوں کے لیے چاہے گھر میں مجرے کروائیں یا بالا خانے تشریف لے جائیں مگر عورتوں کے سامنے کھیرا بھی سالم حالت میں نہ جائے کہ کہیں کسی عورت کے ذہن میں کوئی برا خیال نہ آ جائے۔

وہ ایسی ڈمی نما عورتیں تھیں جن کی سوچ تک پہ پہرے بٹھانے پہ فخر محسوس کیا جاتا تھا۔

آئیے! کتابوں سے اس زمانے کی کچھ اور عورتوں کا حال جانتے ہیں :

میرے اس کہنے پر کہ ممانی جان آپ کیوں ایسے آدمی کو اپنے ہاں رکھتی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، بیٹی کس کس کو نکالوں، دھوبی ہے وہ کئی بدل چکا ہے، مالی چار کو نکال چکا ہے، عیدو بھی دو کو طلاق دے چکا ہے۔ عورتیں ہی اس ملک میں اتنی سستی مل جائیں تو میں کیا کروں۔‘

(افسانہ – چھدا کی ماں)

’ ایک مسلمان عورت کالے تنگ پاجامے، گلابی دوپٹہ اور چاندی کے زیور سے لدی ہوئی اٹھی۔ بلاق اس کا اتنا بڑا تھا کہ اس کا منہ اور دانت سب بلاق کے پیچھے چھپ گئے تھے۔ میرا خیال ہے کہ پرانے زمانے میں عورت کی چڑ چڑ سے تھک کرکسی مرد نے بلاق نکالا ہو گا تا کہ عورت کی آواز منہ میں ہی پھنس جائے۔ لیکن عورتیں بھی کیا بے وقوف ہیں کہ اس کو رواج بنا لیا۔‘

(افسانہ- میرا ایک سفر)

’لڑکیوں کی تعلیم کے حامد حسن بہت خلاف تھے۔ قرآن شریف، دو ایک دینیات کی کتابیں صدیقہ بیگم کو پڑھا دی گئی تھیں۔ صدیقہ بیگم کی ماں احمدی بیگم نے بالکل بھنورے میں پالا تھا۔ ہر ملنے جلنے والی سے پردہ کروایا جاتا، نہ کوئی سہیلی اور نہ کسی سے ملنا جلنا، نہ کہیں آنا نہ کہیں جانا۔‘

(افسانہ- بے زبان)

’ ڈاکٹرنی نے مجھ سے میری عمر پوچھی میں نے کہا 32 سال۔ کچھ اس طرز سے مسکرائی جیسے کہ یقین نہ آیا۔ میں نے کہا، مس صاحب آپ مسکراتی کیا ہیں؟ آپ کو معلوم ہو کہ 17 سال کی عمر میں میری شادی ہوئی تھی اور جب سے ہر سال میرے ہاں بچہ ہوتا ہے۔ سوائے ایک تو جب میرے میاں سال بھر کو ولایت گئے تھے اور دوسرے جب میری ان سے لڑائی ہو گئی تھی۔

‎اور یہ دانت جو آپ غائب دیکھ رہی ہیں یہ ڈاکٹر غیاث نے اکھاڑ ڈالے۔ ساری بات یہ تھی کہ ہمارے میاں جو ولایت سے آئے تو ان کو ہمارے منہ سے بو آتی تھی۔

‎ہر بچے کے بعد میں کتنی مصر ہوئی کہ میں خود دودھ پلاؤں گی لیکن سنتا کون ہے؟ دھمکی یہ ہے کہ دودھ پلاؤ گی تو میں اور بیاہ کر لوں گا۔ مجھے ہر وقت عورت چاہیے، میں اتنا صبر نہیں کر سکتا کہ تم بچوں کی ٹلے نویسی کرو……‘

‎(پردے کے پیچھے – انگارے)

‎کل رات سامنے کے میدان میں ایک مولوی صاحب وعظ فرما رہے تھے۔ ہر چیز پہ حملہ تھا، سکولوں،کالجوں، لڑکے لڑکیوں کی تعلیم، پردہ، میاں بیوی، ترقی، خوشی، مغرب، ایشیا، غرض کوئی موضوع ایسا نہیں تھا جس پر انہوں نے رائے زنی نہ کی ہو۔ انگریزی تعلیم کی برائی اور میاں کے رتبے پر بہت دیر تک روشنی ڈالتے رہے۔

‎سب سے زیادہ انہوں نے ٹاکیز کی خبر لی، آپ لوگ ٹاکیز دیکھنے جاتے ہیں، وہاں کنجریاں ہوتی ہیں، آنکھیں مٹکاتی ہیں، اپنی برہنہ چھاتیاں آپ کو دکھاتی ہیں، ننگی آپ کے سامنے آ جاتی ہیں۔

‎یہ ہے ہمارے مولویوں کی دماغی تصویر، ان کی آنکھوں میں ہر وقت ننگی عورتیں ناچتی ہیں۔ خیالات ہر وقت عورتوں میں مشغول رہتے ہیں یہاں تک کہ عورتوں کے جسمانی حصوں کا نام لینے کے لیے وہ وعظ میں بھی جگہ نکال لیتے ہیں۔‘

‎(افسانہ -سڑک)

ہمارا جی چاہتا ہے کہ ہم آج کے ٹاکیز میں کام کرنے والی سارہ خان، ثروت گیلانی اور ان تمام اداکاراؤں جو خود کو فیمنسٹ کہتے ہوئے شرماتی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ فیمنسٹ کسی بد بلا کا نام ہے، سے پوچھیں کہ کیا وہ جانتی ہیں کہ  برصغیر میں ایک ایسی فیمنسٹ گزری ہیں جنہوں نے ان اداکاراؤں کے پیدا ہونے سے پہلے ان کے حقوق کی جنگ لڑی۔

آج اگر وہ سکرین پر اپنے فن کے جوہر دکھاتی ہیں اور بالا خانے سے جھانکتے  ہوئے گولی  کھا کر نہیں مرتیں، آج اگر وہ ہر جگہ جانے کے لیے آزاد ہیں اور انہیں کھیرا لوکی سالم دیکھنے کی اجازت ہے تو اس کا سہرا بھی اس فیمنسٹ عورت کے سر بندھتا ہے جو آج سے 100 سال پہلے برصغیر کے سب مردوں اور خصوصا ملاؤں کے سامنے کھڑی ہو گئی اور عورتوں کے حقوق کی جنگ لڑی۔

یہ تھیں ڈاکٹر رشید جہاں، فیض احمد فیض کی استاد !

‎ کم عمری سے وہ ہندوستان کے سماجی اور معاشرتی مسائل سے متاثر ہوئیں۔

‎ننھیال کی حویلی دلی اندرون شہر’فراش خانہ‘ میں تھی۔ میڈیکل کی گتھیاں سلجھاتے سلجھاتے حویلی آتیں تو چاروں طرف بہشتی زیور پڑھتی ہوئی، حویلیوں، شہ نشیوں، کوٹھڑیوں میں قید ان عورتوں کی کسمپرسی کا نظارہ کرتیں جنہیں ابھی تک انسان تو کیا، کسی جاندار مخلوق تک کا درجہ نہیں ملا تھا۔ ٹکے بندھے کپڑوں میں قید، زیوروں کے بوجھ تلے دبی، ایک بچہ گود میں، ایک پیٹ میں اور تین چار پلو سے لٹکے، نسوانی امراض کا شکار ان عورتوں کی زندگی کا مصرف استعمال میں لائی جانے والی کسی بھی بے مصرف چیز کا سا تھا جس سے دل بہلایا جا سکے۔ جب بوسیدہ ہو جائے تو بدل لی جائے اور ان فرسودہ روایات کا مذموم کھیل صدیوں سے مذہب کی آڑ میں جاری تھا۔

‎ڈاکٹر رشید جہاں نے ان تمام مظالم کو دیکھا، سنا اور سوچا، ایسا کیوں؟ کب تک؟ اس کا حل؟

‎اور پھر انہوں نے اپنے قلم کی کاٹ سے ان روایات میں شگاف ڈال دیا۔ یاد رکھیے، دبنگ ادیب کا قلم اور لفظ آہنی دیواروں کو کاٹنا سکھا کے نئے رستے تراشنے کے خواب دکھا سکتا ہے۔

‎ڈاکٹر رشید جہاں کے لہو میں تو انصاف کی بجلی کوندتی تھی سو قلم کے جہاد کے حوالے سے ان کی ملاقات سجاد ظہیر، احمد علی اور محمود الظفر سے ہوئی۔ معاشرے کی روایات کو ضرب لگاتے ہوئے 1932 میں ان چاروں کے افسانوں کا مجموعہ ’انگارے‘ شائع ہوا۔

‎رشیدجہاں کا ڈرامہ ’پردے کے پیچھے‘ انگارے میں چھپنے کی دیر تھی کہ ہنگامہ برپا ہو گیا۔ چھٹکی سی مسلمان لڑکی اور عمامہ و دستار کو للکارے، کٹھ ملا برافروختہ ہوئے۔ منبر سے ’رشید جہاں انگارے والی‘ کے خلاف وعظ ہوئے، جہنم کی وعید سنائی گئی اور کتاب ’انگارے‘ بحق سرکار ضبط ہوئی۔

رشید جہاں کا نام تاریخ میں پہلی فیمنسٹ عورت کے حوالے سے رقم ہوا۔ زمانے نے عورت کا ایک مختلف روپ دیکھا جو عورت کو انسان تسلیم کروانے پہ مصر تھی۔

ڈاکٹر رشید جہاں اور جوش ملیح آبادی ہم عصر تھے، دونوں نے اپنے زمانے کی تصویر کھینچی مگر دونوں میں فرق یہ ہے کہ جوش نے ان حالات کے بارے میں جو کچھ لکھا اس پہ کہیں بھی تاسف کی کیفیت نہیں۔ مگر ڈاکٹر رشید جہاں نے جو کچھ لکھا اس کے ہر لفظ سے دکھ ٹپکتا ہے۔ یہ ہیں دو ہم عصر مگر ایک مرد ہے اور ایک عورت۔

‎جو خواتین وحضرات آج پاکستانی فیمنسٹس کے نقطہ نظر، جدوجہد، نعروں اور جلوسوں کو تنقید کانشانہ بناتے ہیں، اور لفظ فیمنسٹ کو اپنانے سے گریز کرتے ہیں،  انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج جہاں وہ کھڑے ہیں اس میں بیشتر حصہ برصغیر کی فیمنسٹ عورتوں  کا ہے۔

جنہوں نے متبادل بیانیہ برصغیر کے پدرسری نظام کے سامنے رکھا، میرا جسم میری مرضی آج کی بات نہیں۔

ہمیں فخر ہے کہ ہم نے ڈاکٹر رشید جہاں کے کام کو آگے بڑھایا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر طاہرہ کاظمی ڈاکٹر رشید جہاں کیا جاتا تھا بالا خانے انہوں نے کے سامنے عورت کی کے لیے تھی کہ تھا کہ اور ان

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک