مکوآنہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اگست2025ء)2025کا دوسرا چاند گرہن 7ستمبر کو ہوگا اور اس موقع پر آسمان سرخ رنگ کی روشنی سے منور ہو جائے گا،7ستمبر کو ہونے والا چاند گرہن درحقیقت بلڈ مون ہوگا۔ٹائم اینڈ ڈیٹ نامی ویب سائٹ کے مطابق یہ چاند گرہن 7ارب سے زائد افراد دیکھ سکیں گے اور مکمل گرہن لگ بھگ 82منٹ طویل ہوگا۔یہ چاند گرہن دنیا کی 77فیصد آبادی کیلئے دیکھنا ممکن ہوگا جو کہ حالیہ تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے گرہن میں سے ایک ہوگا۔

(جاری ہے)

اس کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ مکمل چاند گرہن ہوگا جو کہ عموماً 18ماہ میں ایک بار دیکھنے میں آتا ہے۔یہ گرہن 7ستمبر کی شب 8بج کر 28منٹ پر شروع ہوگا اور رات ایک بج کر 55منٹ تک برقرار رہے گا جس دوران 82منٹ تک مکمل گرہن ہوگا۔ایشیا میں پاکستان، چین، جاپان اور بھارت اس گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے بہترین ممالک ہوں گے۔اس سے ہٹ کر آسٹریلیا، جنوبی افریقا، یورپ اور دیگر خطوں میں بھی اس کا نظارہ کیا جاسکے گا۔اس سے قبل 2025کا پہلا چاند گرہن 14مارچ کو ہوا تھاجو پاکستان میں نہیں دیکھا جا سکا تھا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے چاند گرہن

پڑھیں:

 230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع

اسلام آباد (وقائع نگار) انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت نے 26 نومبر، سنگجانی جلسہ ، سپریم کورٹ کے باہر احتجاج و دیگر مقدمات میں 230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں و کارکنان کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔

متعلقہ مضامین

  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل