اسلام آباد(اپنے سٹاف رپورٹر سے)وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں جو ملکی معیشت کے استحکام اور بہتر مالیاتی حکمت عملی کا مظہر ہے۔جمعرات کو ڈیجیٹل نیشنل سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  اس وقت سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 15 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 5.

5 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث ملک میکرو اکنامک استحکام کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہنگائی کی شرح اور پالیسی ریٹ میں کمی آئی ہے جس سے کاروباری اور سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری آئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا اگلا ہدف پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی ہے جس کے لیے برآمدات کو فروغ دینے، صنعتی پیداوار میں اضافہ کرنے اور ٹیرف اصلاحات جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے انہوں نیایف بی آر میں جاری اصلاحات کا بھی ذکر کیا جن کا مقصد محصولات میں اضافہ اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے ملک کو ترقی، روزگار اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ارب ڈالر انہوں نے نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • اداکارہ میرب علی کو اچانک سرجری کیوں کروانا پڑی؟ اصل وجہ سامنے آگئی
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ