نشان حیدر اعزاز حاصل کرنے والے پاک فضائیہ کے پائلٹ آفیسر راشد منہاس کا54واںیوم شہادت20اگست کو منایا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
مکوآنہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اگست2025ء)نشان حیدر اعزاز حاصل کرنے والے پاک فضائیہ کے پائلٹ آفیسر راشد منہاس کا54واںیوم شہادت20اگست کو منایا جائے گا وہ شہادت کا رتبہ حاصل کرنے والے پاک فضائیہ کے پہلے آفیسر تھیپائلٹ آفیسر راشد منہاس 17فروری 1951 کوکراچی کی ایک معزز راجپوت فیملی میں پیدا ہوئے ان کے خاندان اور عزیز و اقارب پاک فوج سے وابستہ تھے راشد منہاس نے بھی پاک فضائیہ کا انتخاب کیاوہ اگست1971 کو پائلٹ آفیسر بنے 20اگست1971 کو ان کی تربیتی پرواز تھی ان کا انسٹرکٹر مطیع الرحمن زبردستی کاک پٹ میں داخل ہو گیا اور جہاز کا رخ دشمن ملک بھارت کی جانب موڑ دیا راشد منہاس نے وطن پر جان قربان کرتے ہوئے جہاز کا رخ زمین کی جانب موڑ دیا جہاز تباہ ہونے سے راشد منہاس نے شہادت کا رتبہ حاصل کیاانہیں پاک فوج کے سب سے بڑے اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاک فضائیہ راشد منہاس ا فیسر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔