کیش لیس پاکستان کیلئے حکومتی اقدامات کے بعد ڈیجیٹل والیٹس میں تیزی سے اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیرِاعظم کی جانب سے قائم کردہ خصوصی کمیٹیوں نے ملک میں کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے لیے پُرعزم قومی اہداف مقرر کیے ہیں، جن کا مقصد ڈیجیٹل فنانشل سروسز اور فن ٹیک کے استعمال میں تیزی سے اضافہ کرنا ہے۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیرِاعظم کے کیش لیس اکانومی اقدام کے تحت اہم اہداف میں فعال ڈیجیٹل مرچنٹس کی تعداد کو مالی سال 26-2025 کے اختتام تک 20 لاکھ تک پہنچانا، موبائل اور انٹرنیٹ بینکنگ صارفین کی تعداد کو موجودہ 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھا کر ایک سال میں 12 کروڑ تک لے جانا، اور سالانہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لین دین کو دگنا کرتے ہوئے 15 ارب تک پہنچانے کا ہدف شامل ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ایک اور بنیادی ہدف یہ ہے کہ تمام (100 فیصد) ترسیلاتِ زر بینک اکاؤنٹس یا موبائل والیٹس کے ذریعے منتقل کی جائیں، جو اس وقت 80 فیصد ہیں، اس اقدام کا مقصد نقد ادائیگیوں کا خاتمہ اور ترسیلات میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
وزیراعظم کی زیرِصدارت کمیٹی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ موبائل بینکنگ سروسز کو معاشرے کے تمام طبقات تک وسعت دے گا۔
20 لاکھ ڈیجیٹل مرچنٹس اور 15 ارب ٹرانزیکشنز کا ہدف
ادھر وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس 14 کروڑ 30 لاکھ سے زائد براڈ بینڈ صارفین کے ساتھ کیش لیس معیشت کی طرف منتقل ہونے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ موبائل والیٹس کی تعداد اب روایتی بینک اکاؤنٹس سے زیادہ ہے، اور برانچ لیس بینکنگ کا ڈھانچہ مضبوط ہے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ 4 سیلولر موبائل آپریٹرز میں سے صرف دو (جاز اور ٹیلی نار) نے مضبوط موبائل والیٹ پلیٹ فارمز قائم کیے ہیں۔
ٹیلی نار کا ایزی پیسہ جو 2009 میں لانچ کیا گیا تھا، پاکستان کا پہلا موبائل والیٹ تھا اور اب ملک کا پہلا ڈیجیٹل بینک بن چکا ہے۔
ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے چیف ڈیجیٹل آفیسر فرحان حسن کے مطابق یہ پلیٹ فارم اب روایتی بینکوں جیسی تمام خدمات فراہم کرتا ہے، جس سے لاکھوں غیر بینک شدہ اور کم بینک شدہ پاکستانیوں کے لیے مالی شمولیت کو فروغ مل رہا ہے، ایزی پیسہ کے تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ ماہانہ فعال صارفین ہیں، جن میں سے 1 کروڑ 40 لاکھ موبائل ایپ صارفین ہیں۔
جاز کیش، جس نے 2012 میں کام شروع کیا تھا، اب بھی مارکیٹ لیڈر ہے جس کے 2 کروڑ 10 لاکھ ماہانہ فعال صارفین اور 1 کروڑ 50 لاکھ ایپ صارفین ہیں، جو اسے ملک کا سب سے بڑا ڈیجیٹل فنانشل سروس فراہم کنندہ بناتا ہے۔
جاز کیش کے ہیڈ آف کمیونیکیشن خِیام صدیقی نے اس ترقی کو اکاؤنٹ کھولنے کے آسان طریقہ کار سے منسوب کیا، جس میں نہ کاغذی کارروائی کی ضرورت ہے اور نہ ہی برانچ جانے کی، انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل والیٹس نینو لونز، سیونگز، انشورنس، فلاحی ادائیگیاں اور روزمرہ لین دین کی خدمات ایک ہی جگہ پر فراہم کرتے ہیں۔
اگرچہ جاز کیش نے دیہی علاقوں میں پذیرائی حاصل کی ہے، مگر ایزی پیسہ کو شہری مراکز میں زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔
ٹیلی نار-پی ٹی سی ایل انضمام کے باوجود ایزی پیسہ نے اپنے وفادار صارفین کو برقرار رکھا ہے۔
موبائل ڈیجیٹل والیٹس کی اصل طاقت ان کی سادگی میں ہے، اکاؤنٹس موبائل فون نمبروں سے منسلک ہوتے ہیں اور لین دین کو مقامی دکاندار بطور ایجنٹ کیش اِن اور کیش آؤٹ کے ذریعے ممکن بناتے ہیں۔
اس کے برعکس، یو فون کا موبائل والیٹ یوپیسہ محدود دائرہ کار رکھتا ہے، جب کہ زونگ نے ابھی تک ڈیجیٹل مارکیٹ میں قدم نہیں رکھا ہے۔
Post Views: 11.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں