لاہور:

شاہدرہ ٹاؤن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملازمت پر جانے والی خواتین سے پرس اور موبائل فون چھیننے والے خطرناک گینگ کے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان میٹرو اسٹیشن کے گرد و نواح میں گھات لگا کر نوکری پر جانے والی خواتین کو نشانہ بناتے تھے اور اسنیچنگ کے ساتھ ساتھ گھروں میں گھس کر چوریاں بھی کرتے تھے۔ ایس پی سٹی بلال احمد کے مطابق ملزمان موٹر سائیکل پر سوار ہو کر جھپٹا مارتے اور پرس، موبائل فون اور نقدی چھین کر فرار ہو جاتے۔

دس روز قبل شاہدرہ ٹاؤن کے علاقے میں بھی ملزمان نے ایک شہری کی بہن سے واردات کی تھی جس کی فوٹیج سی سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہو گئی تھی۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ واردات کے بعد ملزمان کس طرح فرار ہوئے۔

پولیس کو خفیہ اطلاع ملی کہ گینگ نئی واردات کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا۔ چند روز کے اندر ہی دونوں ملزمان کو مال مسروقہ سمیت گرفتار کر لیا گیا۔

ایس پی سٹی کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان ناصر اور عمران لاہور کے مختلف علاقوں میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں کرتے رہے ہیں۔ ان کے قبضے سے موٹر سائیکل، آرٹیفیشل جیولری، جوسر، نقد رقم اور اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔ پولیس نے ان کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار