بلوچستان: تربت میں فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
بلوچستان کے شہر تربت میں کالعدم تنظیم کے مسلح کارندوں اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں کالعدم تنظیم کے 2 مسلح دہشتگرد مارے گئے
نجی ٹی وی کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ تربت میں کالعدم تنظیم کے مسلح کارندوں نے رات گئے ایف سی کی چیک پوسٹ پر راکٹ داغے تھے، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے ملزمان کی تلاش شروع کی، آمنا سامنا ہونے پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 2 دہشتگرد ہلاک ہوگئے، جب کہ ایک اہلکار بھی زخمی ہوا ہے، جسے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
تربت میں فائرنگ کے بعد جائے وقوعہ پر پولیس، لیویز، محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے حکام پہنچ گئے۔
مرنے والے ایک شخص کی شناخت سنگانی سر کے رہائشی صبراللہ کے نام سے ہوگئی، رات کو ان افراد نے ایف سی کیمپ پر 4 راکٹ بھی فائر کیے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف سی کی چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی، ملزمان کا پیچھا کرکے سنگانی سر میں ایک گلی میں دہشتگردوں کو گھیرے میں لیکر ہلاک کردیا گیا۔
ہلاک دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ بھی ملا ہے، جسے سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایف سی
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک