بھارت کو ایک اور جھٹکا، ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کا مشن ناکام
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
لانچ وہیکل پرواز کے تیسرے مرحلے میں تکنیکی خرابی کے باعث مشن مکمل نہیں کرسکا
بھارت نے 2013سے اب تک 11مشن خلا میں بھیجے جن میں بیشتر ناکام ہوگئے
بھارت کے خلائی ادارے کا نیا ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ کو خلا کے مدار میں داخل کرنے کا مشن ناکام ہو گیا، لانچ وہیکل پرواز کے تیسرے مرحلے میں تکنیکی خرابی کے باعث مشن مکمل نہیں کرسکا، بھارتی حکام نے مشن کی ناکامی کی تصدیق کردی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جنوبی بھارت کے سری ہری کوٹا خلائی مرکز سے اتوار کی صبح پی ایس ایل وی- سی 61 راکٹ کے ذریعے ای او ایس-09 ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجا گیا، تاہم یہ مشن مکمل نہ ہو سکا۔انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سربراہ وی نارائنن کے مطابق مشن کے تیسرے مرحلے کے دوران موٹر کیس کے چیمبر پریشر میں کمی واقع ہوئی، جس کے باعث مشن مکمل نہیں ہو سکا۔بھارت 1960کی دہائی سے خلائی تحقیق میں سرگرم ہے ، اس نے نہ صرف اپنے لیے بلکہ دیگر ممالک کے لیے بھی سیٹلائٹ خلا میں بھیجے ہیں، 2014 میں بھارت نے کامیابی سے ایک سیٹلائٹ کو مریخ کے گرد مدار میں بھیجا تھا۔2019 میں چاند پر لینڈنگ کی ناکام کوشش کے بعد 2023 میں بھارت نے پہلی بار چاند کے جنوبی قطب کے قریب کامیابی سے لینڈنگ کر کے تاریخ رقم کی، جو کہ ایسی جگہ تھی جہاں اب تک کوئی نہیں پہنچا تھا۔ اس مشن کو دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ملک کے لیے ایک تکنیکی فتح قرار دیا گیا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق سیٹلائیٹ مشن کو خلا سے زمین کے مشاہدے کے لیے لانچ کیا گیا تھا، بھارت نے 2013 سے اب تک 11 مشن خلا میں بھیجے جن میں سے بیشتر ناکام ہوچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔