چین نے پاکستان کوبھارت کیخلاف فضائی دفاع اور سیٹلائٹ مدد فراہم کی ،بھارتی تھنک ٹینک
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
نئی دہلی: – بھارتی وزارتِ دفاع کے تحت کام کرنے والے تھنک ٹینک’’ سینٹر فار جوائنٹ وارفیئر اسٹڈیز‘‘نے دعویٰ کیاہےکہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران چین نے پاکستان کو فضائی دفاع اور سیٹلائٹ مدد فراہم کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ اس تنازع میں اندازوں سے زیادہ براہ راست ملوث تھا
۔نئی دہلی میں قائم سینٹر فار جوائنٹ وارفیئر اسٹڈیز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اشوک کمار نے ایک انٹرویو میں کہا کہ چین نے پاکستان کو ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو دوبارہ منظم کرنے میں مدد دی تاکہ بھارت کی افواج اور ہتھیاروں کی تعیناتی کا مؤثر انداز میں پتہ چلایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان کو پہلگام واقعہ کے بعد بھارت کے ساتھ کشیدگی کے آغاز کے 15 روز میں بھارت کے اوپر سیٹلائٹ کوریج کو ایڈجسٹ کرنے میں بھی مدد دی۔
انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان کو فضائی دفاعی ریڈار کی ازسرِنو تعیناتی کرنے میں مدد کی تاکہ اگر بھارت فضائی راستے سے کوئی کارروائی کرے تو انہیں اس کی پیشگی اطلاع ہو۔
واضح رہے کہ سینٹر فار جوائنٹ وارفیئر اسٹڈیز بھارتی مسلح افواج میں ہم آہنگی اور جدیدیت پر توجہ مرکوز رکھتا ہے، اس کے مشاورتی بورڈ میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، بھارت کے اعلیٰ عسکری کمانڈر اور آرمی، ایئر فورس اور نیوی کے سربراہان شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چین نے پاکستان کو فضائی دفاع بھارت کے
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔