پاکستان نے بھارت سے 1971ء کا بدلہ لے لیا: عطاء تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
عطاء تارڑ—فائل فوٹو
وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت سے 1971ء کی جنگ کا بدلہ لے لیا ہے۔
لاہور میں معرکۂ حق میں کامیابی پر پاک فوج اور سیاسی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی تقریب سے خطاب میں عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ سپہ سالار عاصم منیر کی ولولہ انگیز قیادت میں بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا، جسے وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔
نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بھارت کا حملے کی پیشگی اطلاع دینے کا دعویٰ مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی شاہینوں نے 6 بھارتی جہازوں کو مار گرایا، بھارتی عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تو شکست خوردہ بھارت امریکا کے گھٹنوں میں بیٹھ کر جنگ بندی کی بھیک مانگنے لگ گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دشمن کو ایسا سبق سکھایا ہے جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی، پاکستان نے بھارت سے 1971ء کی جنگ کا بدلہ لے لیا۔
اُن کا کہنا ہے کہ ہم پہلگام واقعے کی تحقیقات کے لیے تیار تھے لیکن بھارت سفارتی محاذ سے بھاگ گیا، اب بات ہو گی تو مقبوضہ کشمیر پر ہو گی۔
عطاء تارڑ نے یہ بھی کہا کہ ہم امن پسند لوگ ہیں، امن کے داعی و خواہش مند ہیں، لیکن دشمن نے امن کو کمزوری سمجھا تو بھرپور جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ دوست ممالک کا ساتھ دینے پر ان کے شکر گزار ہیں، معاشی ترقی کے سفر کو آگے بڑھائیں گے، معاشی میدان میں بھی دشمن کو شکست دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عطاء تارڑ نے بھارت نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :