Express News:
2026-06-03@01:43:52 GMT

غزوہ ہند

اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT

بھارت نریندر مودی کے تکبر کی بہت سزا بھگت رہا ہے‘ پاکستان نے تین دنوں میں بھارت کی چولیں ہلا کر رکھ دیں‘ انڈین ائیرفورس پوری دنیا میں بے عزت ہو کر رہ گئی‘ اس کے تین بڑے عسکری دوست تھے‘ فرانس‘ اسرائیل اور روس‘ فرانس نے بھارت کو رافیل طیارے دیے‘پاکستان نے رافیل گرا کر بھارت کے ساتھ ساتھ فرانس کے منہ پر بھی کالک مل دی‘ روس نے ایس 400 دیا ‘ پاکستان نے دنیا کا مضبوط ترین ائیر ڈیفنس سسٹم تباہ کر کے روس کو بھی بے عزت کر دیا اور اسرائیل نے مودی کو ڈرونز دیے تھے‘ اسرائیلی ماہرین بھی اس جنگ میں شامل تھے۔

 پاکستان نے ڈرونز کا کمیونی کیشن سسٹم بریک کر دیا جس کے بعد یہ اندھی چڑیوں کی طرح پاکستان کی فضا میں ڈولنے لگے اور عام شہری انھیں اپنی رائفلوں سے شکار کرتے رہے لہٰذا اسرائیل بھی بے عزت ہو گیا‘ اس کے برعکس پوری دنیا میں پاکستان کا ڈنکا بج گیا‘ وہ برادر اسلامی ملک جو ہمیں بھکاری سمجھتے تھے وہ بانہیں کھول کر ہماری طرف چل پڑے‘ امریکا ہمیں اہمیت نہیں دے رہا تھا‘ ڈونلڈ ٹرمپ 10 مئی کے بعد اپنی ہر تقریر میں پاکستان اور کشمیر کا حوالہ دینے لگا‘ فرانس سوچ رہا ہے کاش ہم نے رافیل پاکستان کو دیے ہوتے اور چین ہمیں اس وقت اپنا بڑا محسن قرار دے رہا ہے‘ پاکستان نے چین کو وار انڈسٹری کا چیمپیئن بنا دیا اور دنیا نے پہلی مرتبہ چین کے ہتھیاروں کو سیریس لینا شروع کیا۔

 پاکستان کی وجہ سے جے ٹین اور جے ایف 17 کے شیئرز میں بھی اضافہ ہو گیا‘ دوسری طرف پاکستان میں 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پہلی مرتبہ اتنا اتحاد نظر آیا اور پوری قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہو گئی‘ پی ٹی آئی کی وجہ سے فوج کا امیج بہت خراب ہو گیا تھا‘ نو مئی 2023 کے واقعات نے فوج کا خوف تک ختم کر دیا لیکن 10مئی نے نہ صرف فوج کا امیج بحال کر دیا بلکہ قوم کو یہ تک سمجھا دیا ہم اگر آج اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں اور ہماری مسجدوں میں اذانیں اور نمازیں ہو رہی ہیں تو اس کی واحد وجہ اللہ کی ذات اور پاک فوج ہے‘ جنرل عاصم منیر بھی 10مئی سے ہیرو بن کر ابھرے‘ پاکستان میں آج دو درجن لوگوں کو چھوڑ کر 24 کروڑ لوگ جنرل عاصم منیر کے ہاتھ چومنا چاہتے ہیں۔

 لوگ انھیں فیلڈ مارشل بھی بنانا چاہتے ہیں‘ اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی اور عمران خان کا بیانیہ بھی ’’وڑ‘‘ گیا‘ قدرت نے عمران خان کو 22 اپریل کے بعد قوم کے ساتھ کھڑا ہونے کا آخری موقع دیا تھا‘ عمران خان اگر پہلگام کے واقعے کو بنیاد بنا کر فوج اور جنرل عاصم منیر کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیتے‘ پارٹی بریفنگ میں شامل ہو جاتی اور فوج کی غیر مشروط حمایت کر دیتی تو آج عمران خان کی رہائی کا عمل شروع ہو چکا ہوتا اور فوج کے دل میں ان کی قدر بھی بڑھ چکی ہوتی لیکن عمران خان دھوکے میں مارے گئے‘ ان کا خیال تھا فوج بھارت کا مقابلہ نہیں کر سکے گی اور یہ عوام کو ایک بار پھر فوج کے خلاف سڑکوں پرلے آئیں گے۔

 علم جوتش کے مطابق بھی اپریل کا آخری اور مئی کا پہلا ہفتہ پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک تھا‘ پروفیسر غنی جاوید میرے پرانے کولیگ اور مہربان ہیں‘ یہ بہت بڑے آسٹرالوجر ہیں‘ یہ اپریل کے شروع میں میرے پاس تشریف لائے‘ بہت متفکر تھے‘ ان کا کہنا تھا پاکستان کے برے دن شروع ہو گئے ہیں‘ اپریل کا آخری اور مئی کا پہلا ہفتہ پاکستان کے لیے بہت خطرناک ہے‘ ہم اگر اس کی نحوست سے بچ گئے تو بھی یہ سلسلہ 2027تک چلتا رہے گا‘ یہ اڑھائی سال پاکستان کی تاریخ کا مشکل ترین دور ہو گا‘ پوری قوم دعا اور اتحاد سے ہی اس کا مقابلہ کر سکتی ہے۔

 ان کا کہنا تھا اللہ سے دعا کرو یہ جنرل عاصم منیر‘ عمران خان‘ آصف علی زرداری‘ نواز شریف اور شہباز شریف کو لمبی زندگی دے‘ ان میں سے کسی کا حادثہ ملک کے اندر خوف ناک بحران پیدا کر دے گا اور بھارت اس کا بھرپور فائدہ اٹھائے گا‘ ان کا کہنا تھا بھارتی جوتشی اس پر یقین رکھتے ہیں‘ یہ پاکستان کے خراب ہوتے ستاروں سے واقف ہیں چناں چہ یہ اڑھائی سال پاکستان کو سانس نہیں لینے دے گا‘ یہ بریک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا حملہ کرتا چلا جائے گا‘ میں نے ان کے انکشافات کو سیریس نہیںلیا لیکن جب22 اپریل کو پہلگام کا واقعہ پیش آیا اور حالات خراب ہوتے چلے گئے تو میں واقعی ڈر گیا اور پروفیسر صاحب سے دوبارہ رابطہ کیا‘ ان کا کہنا تھا 20 مئی کے بعد ایک بار پھر حالات میں ٹرن آئے گا اور 27مئی کا دن ملک کے لیے خطرناک ہو گا اور اس کے بعد یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

پروفیسر غنی جاوید کے انکشافات اپنی جگہ لیکن 10مئی کو قوم کو بہت بڑی خوش خبری نصیب ہوئی مگر بھارت ہار کے باوجود باز نہیں آیا اور یہ مستقبل میں بھی باز نہیں آئے گا‘ بی جے پی نے 13 مئی کو ہندوستان میں ’’ترنگا یاترا‘‘ شروع کر دی‘ یہ انڈیا کی تاریخ کی پہلی ایسی یاترا ہے جو پورے ملک میں ہو رہی ہے اور اس کا مقصد بھارت کی فتح کا جشن ہے‘ یہ 23مئی کو ختم ہو گی‘ میرا خدشہ ہے نریندر مودی 23مئی کو خوف ناک تقریر کرے گا اور پاکستان سے سیز فائر توڑنے کا اعلان کر دے گا‘ یہ ترنگا یاترا کے ذریعے اس تقریر کے لیے فضا ہموار کر رہا ہے۔

 پوری قوم کو اکٹھا کرے گا‘ کروڑوں لوگوں کو سڑکوں پر لائے گا اور 23یا 24مئی کو اسکرینیں لگا کر تقریر کرے گا اور پھر اعلان جنگ کر دے گا‘ میرے اس موقف کے لیے بطور ثبوت یہ دلیل کافی ہو گی نریندر مودی نے امریکا کے ذریعے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کے درمیان رابطے کے لیے 24 مئی تک وقت مانگا ہے‘ کیوں؟اگر یہ مذاکرات کے لیے مخلص ہے تو پھر نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کے درمیان رابطے کے لیے 24مئی کا انتظار کیوں؟ یہ رابطہ آج کیوں نہیں ہو سکتا؟ دوسرا سیز فائر کے بعد ترنگا یاترا کی کیا ضرورت تھی؟ اور وہ بھی 10 دن طویل‘ یہ یاد رکھیں نریندر مودی ترنگا یاترا کی آڑ میں فوجی اور سفارتی تیاریاں کر رہا ہے‘ یہ عوام کو بھی موبلائز کر رہا ہے چناں چہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی‘ یہ دوبارہ حملہ کرے گا اور اسی مہینے میں کرے گا اور اس مرتبہ اس کا نشانہ ہماری ائیرفورس اور میزائل سسٹم ہوگا۔

پاکستان نے بھی تیاریاں شروع کر دی ہیں‘ چین نے جے 35 اے کے نام سے جنریشن فائیو طیارے بنا لیے ہیں‘ یہ اسٹیلتھ طیارے ہیں جنھیں ریڈارنہیں پکڑ سکتا‘ چین پاکستان کو یہ طیارے دے رہا ہے‘ہمارے پائلٹ اس وقت چین میں یہ طیارے اڑانے کی ٹریننگ لے رہے ہیں‘ یہ اچھی خبر ہے لیکن سوال یہ ہے کیا یہ انڈیا نہیں جانتا؟ بھارت جانتا ہے چناں چہ اس کی کوشش ہو گی یہ جے 35 اے سے پہلے پاکستان سے بدلہ لے لے لہٰذا بھائیو زیادہ خوشیاں نہ مناؤ‘ اللہ سے دعا کرو‘ اتحاد قائم کرو اور تیاریاں جاری رکھو‘ زخمی سانپ مرنے سے پہلے بھرپور حملہ کرتا ہے اور نریندر مودی اس کی تیاری کر رہا ہے‘ یہ اگر اس شکست کو خاموشی سے برداشت کر جائے گا تو بھارت سے بی جے پی‘ آر ایس ایس اور نریندر مودی تینوں ختم ہو جائیں گے‘ کانگریس نے 10 مئی کے بعد انگڑائی لینی شروع کر دی ہے‘ راہول گاندھی سڑکوں پر نکل رہا ہے‘ بی جے پی کا اقتدار ریاستوں میں بھی سمٹ رہا ہے‘ میڈیا نے بھی سوال اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔

 نریندر مودی دس برسوں میں زیادہ تر نیوز چینلز اور صحافی اپنی جیب میں ڈال چکا ہے لیکن سوشل میڈیا نے نئی شخصیات کو جنم دے دیا اور ان کی آواز ’’گودی میڈیا‘‘ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے چناں چہ رویش کمار اور پروین سوہائے جیسے لوگ اب سوال اٹھا رہے ہیں اور حکومت کے پاس ان کا کوئی جواب نہیں‘ امریکا بھی بھارت کو دانت دکھا رہا ہے‘ ایپل کمپنی نے چین میں اپنا بزنس سمیٹ کر بھارت میں سرمایہ کاری شروع کی تھی‘ ٹاٹا کمپنی کے ساتھ مل کر ایپل نے 2017میں آئی فون کی فیکٹریاں لگائیں‘2024 میں بھارت میں 22 بلین ڈالر کے آئی فون بنے اور امریکا اور دوسرے ملکوں میں ایکسپورٹ ہوئے‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے 15مئی کو ایپل کمپنی کے سی ای او ٹم کک کو قطر میں بلا کر بھارت میں فیکٹریاں بند کرنے کا حکم دے دیا‘ یہ مودی سرکار کے لیے معاشی دھچکا ہے لہٰذا نریندرمودی کمرے میں پھنسی بلی بن چکا ہے اور اس کے پاس پاکستان پر حملے یا دونوں ملکوں میں ٹینشن بڑھانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں‘یہ اپنے آپ‘ بی جے پی اور آر ایس ایس کو بچانے کے لیے پاکستان کی طرف پلٹے گا‘ یہ ہم پر حملہ کرے گا‘ ہمیں اپنی کام یابی پر زیادہ خوش نہیں ہونا چاہیے۔

میں پریکٹیکل قسم کا دنیا دار انسان ہوں‘ میرا دماغ غزوہ ہند جیسی اصطلاحات کو قبول نہیں کرتا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے یقین ہوتا جا رہا ہے تیسری عالمی جنگ دنیا کے سر پر منڈلا رہی ہے‘ یہ جنگ ایران سے اسٹارٹ ہو گی یا ہندوستان سے بس یہ فیصلہ باقی ہے‘ یہ اگر ایران سے اسٹارٹ ہو گئی تو یہ پہلے عالم اسلام کو نگلے گی اور اس کے بعد یورپ اور امریکا کو اپنے نرغے میں لے لے گی‘ چین اور روس بھی اس کا رزق بن جائیں گے اور یہ اگر بھارت سے شروع ہوئی تو چین‘ ترکی اور روس کو اس میں کودتے دیر نہیں لگے گی اور اس کے بعد اسرائیل‘ یورپ اور امریکا خود کو اس سے دور نہیں رکھ سکیں گے اور پھر وہ وقت آ جائے گا جب پوری دنیا ملبے اور راکھ کاڈھیر ہوجائے گی۔

 مجھے وقت کے ساتھ ساتھ غزوہ ہند حقیقت کا روپ دھارتا ہوا محسوس ہو رہا ہے‘ بھارت نے اگر نریندر مودی‘ بی جے پی اور آر ایس ایس کو کنٹرول نہ کیا اگر جنگ کے جنون کو قابو نہ کیا گیا تو مودی اس خطے اور بعدازاں پوری دنیا کو تنور میں جھونکتے دیر نہیں لگائے گا‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ اس قبیلے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جو دل سے سمجھتا ہے ’’اگر مودی نہیں تو انڈیا نہیں‘‘ اور یہ وہ سوچ ہے جس کے ہوتے ہوئے یہ خطہ امن سے زندگی نہیں گزار سکتا چناں چہ غزوہ ہند کی تیاری کر لیں‘ یہ اب زیادہ دور نہیں رہا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کے ساتھ ساتھ ترنگا یاترا پاکستان نے پاکستان کی کرے گا اور پوری دنیا کر رہا ہے اور اس کے غزوہ ہند بی جے پی چناں چہ کر دیا مئی کو اور یہ مئی کا کے بعد کے لیے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی