Express News:
2026-06-03@03:13:50 GMT

گول روٹی سے گول چہرے تک۔۔۔

اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT

ہم پاکستانی بحیثیت قوم دائروں میں ہی زیادہ گردش کرتے ہیں۔ چاہے گول روٹی کا دائرہ ہو یا نومولود بچے کا گول سر۔ اب خوب صورت چہرہ بھی وہی ہے، جو ’گول‘ ہو۔ اکثر آپ نے لوگوں کو یہ بھی کہتے ہوئے سنا ہوگا ’ارے کتنا معصوم اور گول مٹول سا بچہ ہے۔‘ یہی نہیں ہمارے معاشرے میں 90 فی صد افراد کی روز مرہ زندگی ایک ہی ’گول‘ دائرے میں گھوم رہی ہے۔ جس کو ہم  ان کا ’کمفرٹ زون‘ کہتے ہیں۔

ویسے ہمارے معاشرے کا ایک طبقہ وہ  بھی ہے، جس کو لگتا ہے لڑکی کی نجات ’گول‘ روٹی میں ہی ہے۔ ارے ’گول‘ روٹی کے چکر میں کیا کچھ نہیں ہو جاتا۔ میں نے تو اپنے حلقۂ احباب میں  پڑھی لکھی خواتین کو بھی ’گول‘ روٹی بنانے کے جنون میں مبتلا پایا، جن کی اب گویا ساری زندگی کی کام یابی اور خوشی کا محور صرف ’گول‘ روٹی بنانے میں ہی باقی رہ گیا ہے۔

حیرانی اس وقت انتہا کو پہنچی، جب ’یوٹیوب‘ پر بھی ’گول‘ روٹی بنانے کی لاتعداد وڈیوز دیکھیں، جن میں ننانوے اعشاریہ نو فی صد ویڈیوز پاکستانی اورانڈین یوٹیوبرز کی پائیں۔ ایک لمحے کوایسا لگا کہ جیسے گول روٹی کے علاوہ ہماری زندگی میں کام یابی اور مقصدیت کو پرکھنے کا کوئی دوسرا پیمانہ ہی نہ ہو، مگر معاملہ صرف روٹی تک محدود نہیں۔ یہ ’گول‘ دائرے کے چکر نے ہماری معاشرتی سوچ، رسم و رواج اور خواتین سے وابستہ توقعات  کو بھی ایک گھن چکر بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے ہماری خواتین اور بچیاں جو اس ہی ’گول‘ کے دائرے میں گول گول گھومتی رہتی ہیں۔

ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے معاشرے کی لڑکی کا اصل کام، زندگی میں کسی اعلیٰ مقصد اور بامعنی اہداف کے حصول کی بہ جائے ایسی ہی مشقیں ہیں۔ گول چہرہ، گول روٹی، گول مول گفتگو اور خاندان کے گرد گول گول ہی گھومتی زندگی۔ اگر وہ اس ’گول‘ دائرے سے نکل کر سیدھی بات کرے، بامقصد اور بامعنی زندگی کا انتخاب کرے یا اپنی سوچ اور باتوں سے لوگوں کو ’گول گول‘ گھمانے کے بہ جائے سیدھا راستہ چُنے یا سیدھی سوچ رکھے، تو ہمارا معاشرہ ایسی عورت کو نہ صرف اسے سخت نظروں سے دیکھتا ہے، بلکہ بدمزاج، بد اخلاق اور پھوہڑ جیسے القابات سے بھی نوازتا ہے۔

یہاں تک کہ ’ہونے والی بہو‘ یا نئی نویلی دلہن کی جانچ بھی ’گول‘ روٹی بنانے کی صلاحیت ہی سے کی جاتی ہے۔ گویا لڑکی کی تمام تعلیم، قابلیت، اخلاقیات پسِ پشت ڈال دی جاتی ہیں اگر وہ روٹی گول نہ بنا سکے۔ ہمارے معاشرے کا ایک طبقہ تو ایسا بھی ہے جسے پختہ یقین ہے کہ لڑکی کی نجات، اس کا اصل کمال، صرف اور صرف ’گول‘ روٹی میں ہی پوشیدہ ہے۔ جیسے لڑکی کا وجود، اس کی قابلیت، حتیٰ کہ اس کی عزت بھی توے اور بیلن کے درمیان سمیٹی جا سکتی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ معاشرے میں عورت کا کردار بھی ایک مخصوص ’گول‘ دائرے میں قید ہے۔ بچپن سے اسے سکھایا جاتا ہے کہ تمھاری زندگی کا مقصد صرف گھر، چولھا، شوہر اور بچے ہیں۔ تعلیم ہو یا نوکری، سب تبھی تک قابل قبول ہیں، جب وہ اس ’دائرے‘ کے اندر رہیں۔ اگر کوئی عورت اس ’گول‘ دائرے سے باہر نکلنے کی کوشش کرے یا اپنے خواب، اپنی خواہشات یا اپنی شناخت کی بات کرے، تو نہ صرف معاشرہ بلکہ ہر دل عزیز گھر والوں کی کڑی تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔

ضروری نہیں کہ روٹی ’گول‘ ہی کھانے کے چکر میں دوسرے کی زندگیاں ہی گول کر دی جائیں۔ روٹی گول بنانی آنا ایک ہنر ضرور ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر کسی کے ہاتھ میں ایک ہی جیسا ہنر موجود ہو۔ اللہ رب العزت نے دنیا میں تنوع رکھا ہے، ہر انسان دوسرے انسان سے مختلف ہے۔ اس بھری دنیا میں کسی بھی دو لوگوں کا ’ڈی این اے‘ ایک جیسا نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہر کوئی ایک ہی فن میں ماہر ہو؟

لہٰذا ’گول‘ روٹی بنانی آنا ایک فن ضرور ہے، لیکن اس کو کام یابی یا نجات کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اب بات کر لیتے ہیں ’گول‘ چہرے کی، جو نہ صرف ’خوب صورتی کا معیار‘ سمجھا جاتا ہے، بلکہ ’گول‘ چہرا کسی لڑکی کو احساس برتری تو کسی خاتون کو احساسِ کم تری کا شکار بنا دیتا ہے۔ شکل کی خوب صورتی کے تمام پیمانے ’گول‘ چہرے سے شروع ہوکر اس کی گولائی پرکھنے میں ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے اس ’گول‘ دائرے میں نہ صرف عورت کا جسم، بلکہ اس کا ذہن بھی قید کر دیا گیا ہے۔ وہ خود فیصلے نہیں کر سکتی، اسے سکھایا جاتا ہے کہ اگر سچ بولنا ہے تو ’’نرمی سے‘‘، اگر اختلاف کرنا ہے تو ’’ادب سے‘‘، اور اگر خواب دیکھنے ہیں تو ’’حقیقت کے مطابق‘‘۔ صرف اسی پر یہ ساری ذمہ داری بھی ڈال دی جاتی ہے کہ خاندان کی عزت، بچوں کی تربیت، شوہر کی خوشی، سب کچھ اس کی ’’نرمی‘‘ اور ’’بردباری‘‘ سے جُڑی ہوئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس ’گول‘ پن کی نفسیات کو پہچانیں اور اس کے خلاف آواز بلند کریں۔ عورت کو بھی ایک انسان سمجھیں، ایک مکمل شخصیت کے طور پر۔ نہ کہ کسی ایسی بے جان وجود یا چیز کے طور پر جسے گڑھ کر، تراش کر مطلوبہ سماجی سانچوں میں فٹ کیا جائے۔ اسے اس کی قابلیت، اس کے خواب، اور اس کے فیصلوں کے ساتھ قبول کریں۔

یہ وقت ہے کہ ہم اپنے ذہنوں سے ان ’گول‘ چکر کی روایات کو نکال پھینکیں، جو عورت کو صرف خوب صورتی، خدمت یا برداشت کی علامت بنا کر پیش کرتی ہیں۔ عورت صرف ایک کردار نہیں، وہ ایک مکمل کائنات ہے۔ وہ عورت جو زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی ہے، اس کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس کو گول چکر سے باہر نکالنا ضروری ہے۔

وہ عورت جو درست سمت کا تعین کر کے اپنی اور اپنے خاندان کی پہچان بنانا چاہتی ہے، اس کے لیے آسانیاں پیدا کریں، نہ کہ اس کی صلاحیتوں کو ایک مخصوص ’گول‘ دائرے میں محدود کر دیا جائے۔ ہمیں بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشرے کی ترقی کے لیے ایک دو تین افراد کا نہیں، بلکہ بلکہ پورے معاشرے کو ترقی پسند ہونا ضروری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: روٹی بنانے میں ہی

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی