data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستانی قوم آج ایک ایسے ہیرو کو یاد کر رہی ہے جس نے اپنی بہادری، غیر متزلزل عزم اور ناقابل تسخیر حوصلے سے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔

کیپٹن کرنل شیر خان شہید، جنہیں ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ’نشانِ حیدر‘ عطا کیا گیا، کی برسی آج قومی جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ ان کی شہادت کو برسوں گزر چکے ہیں، مگر ان کا کردار آج بھی زندہ و جاوید ہے، جو نہ صرف نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے بلکہ دفاع وطن کے ہر جذبے کی روح ہے۔

صوابی کے ایک عام گاؤں نواں کلی (جو آج ان کے نام سے “کرنل شیر خان کلی” کے طور پر پہچانا جاتا ہے) میں یکم جنوری 1970 کو پیدا ہونے والے اس نوجوان نے ابتدا میں پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں 1992 میں وہ پاک فوج کا حصہ بن گئے۔

ان کی قابلیت اور لیاقت کے پیش نظر 14 اکتوبر 1994 کو انہیں 27 ویں سندھ رجمنٹ میں کمیشن دیا گیا، جہاں سے ان کے عسکری سفر کا اصل آغاز ہوا۔

کرنل شیر خان کی اصل شناخت کارگل کی جنگ میں ابھری، جہاں انہوں نے 12 ویں ناردرن لائٹ انفنٹری کے ساتھ دشمن کے عزائم کے خلاف ایسی جرأت و دلیری دکھائی جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

گلٹری اور ٹائیگر ہل جیسے بلند اور کٹھن محاذوں پر انہوں نے 17 ہزار فٹ کی بلندی پر دفاعی مورچے قائم کیے، جہاں نہ صرف بھارتی فوج کے مسلسل حملے ناکام بنائے بلکہ ان حملوں کے بعد جوابی کارروائیاں بھی کیں۔

5 جولائی 1999 کو دشمن کی جانب سے کی گئی بھرپور یلغار میں، جب دو بھارتی بٹالینز نے محاصرے میں لے کر حملہ کیا، کرنل شیر خان نے نہ صرف جوانمردی سے دفاع کیا بلکہ ایک شاندار جوابی حملہ کرتے ہوئے دوبارہ پوسٹ حاصل کی۔ بدقسمتی سے اسی دوران مشین گن کی گولیوں کا نشانہ بن کر وہ شہید ہو گئے۔

ان کی قربانی کی گواہی دشمن افواج نے بھی دی ۔ بھارتی لیفٹیننٹ جنرل موہندر پوری نے نہ صرف ان کی بہادری کا اعتراف کیا بلکہ انہیں جنگ کا ’’نایاب سپاہی‘‘قرار دیا۔

کرنل شیر خان نے زخمی ہونے کے باوجود نہ صرف مورچے سنبھالے رکھے بلکہ اپنے جوانوں کی قیادت بھی جاری رکھی۔ وہ آخری دم تک لڑے اور اپنی پوسٹ کو دشمن کے قبضے میں جانے نہ دیا۔ ان کی شجاعت کی گونج سرحد کے اُس پار بھی سنائی دی، اور یہی وہ نکتہ تھا جس نے انہیں نشانِ حیدر جیسے عظیم اعزاز کا مستحق بنا دیا۔

آج جب ملک دشمنوں کے خلاف دفاعی محاذ پر سرگرم ہے اور دنیا بھر میں پاکستانی افواج کا وقار بلند ہے، کرنل شیر خان جیسے ہیروز کی یاد ایک تازہ جذبہ پیدا کرتی ہے۔ ان کا پیغام آج بھی یہی ہے کہ وطن کی حفاظت کے لیے جان کا نذرانہ دینا کوئی بڑی قیمت نہیں، بلکہ یہ ایک فخر کی بات ہے۔

قوم آج نہ صرف ان کے مزار پر فاتحہ خوانی کرتی ہے بلکہ ان کے نقشِ قدم پر چلنے کا عزم بھی دہراتی ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور عسکری اداروں میں ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کا تذکرہ صرف ایک فوجی داستان نہیں بلکہ ایک ایسی حیات بخش حقیقت ہے جو نسلوں کو جینے کا سلیقہ اور وطن سے محبت کا مفہوم سکھاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق