پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پارک) عملی طور پر غیر فعال ہو چکی ہے، کیونکہ 26-2025 کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں ایک بھی تحقیقی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا ہے۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی، زراعت کو اولین ترجیح دینے کے بار بار حکومتی دعوؤں کے باوجود نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) میں تحقیقی کام اب ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

پارک مالی سال 2026 میں جنوبی کوریا کے تعاون سے آلو کے تصدیق شدہ بیج کی پیداوار کے صرف ایک پروجیکٹ پر کام کرے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے دو جاری منصوبوں کو معطل کر دیا ہے جن میں ایک دالوں کی پیداوار بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنا اور دوسرا گلگت بلتستان میں ماؤنٹین ریسرچ سینٹر کو اپ گریڈ کرنا شامل ہیں۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ایک سینئر عہدیدار کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ وزارت کے تحت پانچ نئی اسکیمیں پی ایس ڈی پی میں شامل کی گئی ہیں، ان میں سے کوئی بھی پارک سے متعلق نہیں ہے۔

رابطہ کرنے پر پارک کے چیئرمین ڈاکٹر غلام محمد علی نے تصدیق کی کہ منظور شدہ اسکیموں میں 26-2025 کے دوران نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں تحقیقی سرگرمیاں شامل نہیں ہیں۔

ان پانچ منصوبوں میں سے ایک وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کا حلقہ شیخوپورہ میں ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام سے متعلق ہے۔ وزارت نے گندم کی پٹی اور باسمتی چاول کے برآمدی زون میں واقع کثیر الضابطہ زرعی تحقیقی ادارے کے لیے پانچ سال کے لیے 380 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔

وزارت غذائی تحفظ کے سیکریٹری وسیم اجمل چوہدری نے جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو اپنی ذمہ داریوں کے تحت عائد کردہ مالیاتی رکاوٹوں کی وجہ سے وزارت کا ترقیاتی بجٹ 24 ارب روپے سے کم کر کے 4.

7 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف منصوبہ بند پروجیکٹس میں کمی واقع ہوئی ہے۔

کمیٹی نے وزارت کے ساتھ پہلے سے زیر بحث اور سفارش کردہ متعدد اسکیموں کے اخراج پر تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر خیرپور میں مجوزہ ڈیٹس ریسرچ سینٹر کے اخراج پر۔

شیخوپورہ پروجیکٹ کے علاوہ، وزارت نے پاکستان نیشنل شوگر اینڈ شوگر کین مانیٹرنگ سسٹم، پائیدار زرعی کاروبار اور آبی زراعت کی ترقی کے لیے مالی ترغیبی پروگرام، پاکستان میں کپاس کی بحالی اور پاک سرزمین کارڈ پروجیکٹ کی منظوری دی تھی۔

پارک کا قیام 1981 میں دیگر وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر تحقیق کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا تھا جبکہ نارک اس کے اہم تحقیقی بازو کے طور پر کام کرتا ہے۔

سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پارک انتظامیہ نے 26-2025 کے لیے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کے لیے 15 منصوبوں کو حتمی شکل دی تھی۔ تاہم وزارت غذائی تحفظ نے ابتدائی طور پر ان میں سے 7 کو شارٹ لسٹ کیا، لیکن آخر کار ان سب کو چھوڑ دیا، جن کی لاگت کا تخمینہ 24 ارب روپے سے زیادہ تھا۔

وزارت غذائی تحفظ نے زرعی تحقیق کے فروغ کے لیے 10 ارب روپے کی سیڈ منی کے ساتھ انڈوومنٹ فنڈ بنانے کی تجویز کو مسترد دیا۔

زراعت میں تحقیق و ترقی کو مالی وسائل کی کمی اور بے ترتیب فنڈنگ ​​کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

Post Views: 5

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایگریکلچرل ریسرچ ارب روپے کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔

تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔

اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار