ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے ٹیسٹ میچ کے دوران گراؤنڈ میں کتا گھس آیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز گراؤنڈ میں کتا گھس آیا۔
نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم گرینیڈا میں کتا گھسنے کی ویڈیو وائرل ہو گئی۔
کتے کے گراؤنڈ میں داخل ہونے کی وجہ سے کھیل کچھ دیر رکا رہا، ڈرون کیمرہ سے کتے کو گراؤنڈ سے باہر نکالنے کی کوشش کی گئی۔
View this post on InstagramA post shared by shepmates (@shepmates)
واضح رہے کہ آسٹریلیا نے دوسرے روز کھیل کے اختتام پر 2 وکٹوں کے نقصان پر 12 رنز بنائے ہیں۔
ویسٹ انڈیز ٹیم پہلی اننگز میں 253 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی جبکہ آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز میں 286 رنز بنائے تھے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں سری لنکا اور بنگلادیش کے درمیان پہلے ایک روزہ میچ میں خطرناک سانپ گراؤنڈ میں آگیا تھا۔
گراؤنڈ میں داخل ہونے والا سانپ خطرناک تھا، جو دیکھنے میں کئی فٹ بڑا تھا، سری لنکا کے گراؤنڈ پر سانپ کے داخلے کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔
سری لنکا میں سانپوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے، جو کھیلوں کے اکثر مقابلوں میں نظر آتے ہیں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔