Daily Ausaf:
2026-06-03@01:22:56 GMT

موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید

اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT

تاریخ انسانی میں ہمیشہ حق اور باطل کی قوتوں کے درمیان معرکہ آرائی رہی ہے ۔ تمام انبیاء اکرام اپنے اپنے دور میں باطل اور برائی کی قوتوں کے سامنے حق کا پرچم بلند کرتے رہے۔ حضرت خلیل اللہ ؑ و نمرود، صاحب ضرب کلیم ؑو فرعون اوراسی طرح رسول پاک ﷺنے ابوجہل اور کفار مکہ کے سامنے ثابت قدمی سے حق کا پیغام پیش کیا اورباطل کا بھر پور مقابلہ کیا۔ انبیاء اکرام کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ حضرت امام عالیؓ مقام کا یزید کے سامنے کلمہ حق اسی کا تسلسل تھا جس کا ذکر کرتے ہوئے علامہ اقبال فرماتے ہیں
موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
این دو قوت از حیات آمد پدید
علامہ نے انسانی تاریخ کا اہم فلسفہ ایک شعر میں سمو دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیںحضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام حسین ؓ حق اور نیکی کے علمبردار تھے جبکہ فرعون اور یزید باطل اور برائی کے مظہر تھے۔ ان دونوں قوتوں کے مابین یہ کشمکش ہمیشہ جاری رہے گی۔ ہر دور میں دونوں قوتیں موجود ہوتی ہیں یہ ہمیں طے کرنا کہ کس کا ساتھ دینا ہے۔ حق و باطل کی اسی معرکہ آرائی کو علامہ نے مزید وضاحت سے یوں بیان کیا ہے کہ حضرت ابراھیم ؑ کے پیام انقلاب سے یوم فرقان جب حق اور باطل ایک دوسرے کے مد مقابل تھے اور یہی سلسلہ کربلا میں نظر آتا ہے ۔
صدق خلیل بھی ہے عشق، صبر حسین بھی ہے عشق
معرکہء وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق
اردو اور فارسی ادب میں بہت سے ممتاز شعراء نے امام عالی مقام کو اپنے اپنے علم اور فہم کے مطابق خراج عقیدت پیش کیا ہے لیکن جو علامہ کا انداز ہے وہ کسی اور کا نہیں۔ یہ ہو بھی نہیںسکتا۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ علامہ کی شاعری کامنبع قرآن ہے۔ انہوں نے قرآن حکیم پر غوروفکر کرتے ہوئے جو کچھ خود سمجھا وہی انہوں نے دوسروں کو سمجھایا۔ حضرت امام حسین کاقرآن سے تعلق بیان کرتے ہوئے کیا خوب لکھتے ہیں کہ
رمز قران از حسین آموختم
ز آتش او شعلہ ہا اندوختم
وہ کہتے ہیں کہ ہم نے قرآنی تعلیمات کا راز حضرت امام حسین ؓ سے سیکھا ہے او ر ہم نے اُن کی جلائی ہوئی آگ سے شعلے لیکر جمع کئے ہیں ۔ امام علی مقام نے اپنے خون سے اللہ کی وحدانیت اور توحید کی گواہی دی اور ہم امام عالی مقام کے دیئے ہوئے درس حریت کی روشنی میںمصروف عمل ہیں۔ علامہ کے فارسی اشعار رموذ خودی سے ہیں ۔ علامہ اقبال نے حضرت امام حسین ؓ کوایک طویل نظم درمعنی حریت اسلامیہ و سِرِ حادثہ کربلا میں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ قرآن حکیم کی تعلیمات کی روشنی میںشہادت حسین ؓ پر اس سے بہتر خراج عقیدت میری نظر نہیں گذرا۔معروف ماہر اقبالیات محمد شریف بقا نے اس طویل فارسی نظم کو آسان اردو میں ترجمہ کرکے اقبال اور ذکر حسین کے نام سے کتاب کی صورت میں شائع کیا ہے۔ علامہ نے امام حسین اور یزید کو حق اور باطل کی قوتوں کے نمائندوں کی حیثیت سے لیتے ہوئے دونوں کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امام عالی مقام نے حق کی خاطر خاک و خون میں لتھڑ گئے اس لیے وہ لاالہ کی بنیادبن گئے ہیں
بہر حق در خاک و خون غلتیدہ است
بس بنای لا الہ گردیدہ است
اردو کلام میں بھی علامہ نے جابجا جناب امام علی مقام ؑ کی عظیم جدوجہد پربہت خوبصورت انداز میں یوں خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ معرکہ آرائی ہر دور میں جاری رہی اور مستقبل میں جاری رہے گی ۔ اس کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
حقیقت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی
حکیم الامت نے اسی حق و باطل کی کشمکش اور دین کی تاریخ کو اپنے شعر میں یوں بیان کیا کہ حضرت اسماعیل ؑ کی بارگاہ الہی میں قربان ہونے کی رضا کو نقطہ آغاز قرار دیتے ہوئے شہادت امام حسین ؑ پر اس کا اختتام کیا ۔ وہ فرماتے ہیں کہ
غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل
علامہ اس بات پر افسوس کرتے ہیں کہ حضرت امام حسینؓ نے جو عظیم قربانی دی اُسے مسلمانوں نے فراموش کردیا۔ ملوکیت اور آمریت جس کے سامنے امام عالی مقام نے کلمہ حق بلند کیا لیکن وہی ملوکیت ایک طویل عرصہ تک اسلامی تاریخ پر چھائی رہی اور جہاں جہاں آج بھی مسلمانوں میںجمہوریت ہے بھی وہ بھی موروثیت کے لبادے میں ملوکیت کا عکس ہے اسی لیے وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ
قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے دابدار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات
اس صورت حال میں وہ یہی پیغام حریت دیتے ہیں حضرت امام عالی مقام کی پیروی کی جائے اور وہی راستہ امت مسلمہ کو دینا میں عروج اور عزت دے سکتا ہے ۔ اس لیے وہ کہتے ہیں عبادات کا مطلب محض رسمی عبادات اور ذکر و فکر نہیں بلکہ اس کے لیے میدان عمل میں آنا ہوگا اور حضرت امام حسینؓ کے راستے پر چلنا ہوگا اس لیے وہ کہتے ہیں کہ
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ دلگیری
جس طرح مولانا جامی باد نسیم کو بارگاہ رسالت ﷺ میں اپنا حال بیان کرنے کی درخواست کرتے ہیں اسی انداز میں علامہ بھی ہوا سے درخواست کرتے ہیں کہ اس صبا تو دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کوپیغام پہنچاتی ہے ۔
اے صبا اے پیک ِ دور افتاد گاں
اشک، برخاکِ پاکِ او رساں

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: امام عالی مقام وہ کہتے ہیں کرتے ہوئے کے سامنے قوتوں کے علامہ نے باطل کی پیش کیا لیے وہ ہیں کہ کیا ہے حق اور

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان