کچلاک: استاد کا طالب علم کو تھپڑ مارنا جان لیوا بن گیا، پرنسپل خنجر کے وار سے قتل
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
بلوچستان(نیوز ڈیسک)بلوچستان کے ضلع کچلاک میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں طالب علم کو تھپڑ مارنے پر غصے میں آئے ماموں نے اسکول کے پرنسپل کو خنجر کے وار کر کے قتل کر دیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ کچلاک کے علاقے کلی لنڈی میں پیش آیا، جہاں احمد علی شاہ کا دس سالہ بیٹا ایک نجی اسکول میں زیر تعلیم تھا۔ دو روز قبل اسکول کے پرنسپل سکندر شمیم نے بچے کو مبینہ طور پر تھپڑ مارے تھے جس کے باعث بچہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر بچے کے ماموں عطاللہ عرف شمس اللہ کو غصہ آیا۔ وہ اسکول کے باہر پرنسپل کا انتظار کرتا رہا۔ جیسے ہی پرنسپل اسکول کے گیٹ کے قریب پہنچا، عطاللہ نے خنجر سے اس پر حملہ کر دیا۔ حملے کے دوران ملزم بار بار دہراتا رہا کہ میرے بھانجے کو کیوں مارا؟
حملے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس فوری طور پر پہنچی اور شدید زخمی پرنسپل کو اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مقتول پرنسپل کا تعلق کراچی سے تھا اور وہ کئی سالوں سے کچلاک کے مختلف اسکولوں میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ 2 جولائی کو مفتی محمود میموریل اسپتال کی جانب سے پولیس، سوشل ویلفیئر اور ایک این جی او کو خط بھیجا گیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ پرنسپل نے بچے پر تشدد کیا ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
تاہم طالب علم کے والد احمد علی شاہ نے مبینہ طور پر 10 ہزار روپے کے عوض پرنسپل سے صلح کر لی تھی۔
پولیس کے مطابق ایس ایچ او کچلاک نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم عطااللہ کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر کے سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا ہے مزید تفتیش جاری ہے۔
پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات نمایاں، مشال یوسفزئی کا علیمہ خان کے بیٹے پر طنز
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔