کراچی: 13کروڑ کی ڈکیتی، خاتون ٹک ٹاکر و دیگر کا جسمانی ریمانڈکالعدم
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن شرقی کی عدالت نے فیروز آباد تھانے کی حدود میں 13 کروڑ روپے کی ڈکیتی سے متعلق کیس میں دو ملزمان کی جانب سے پولیس ریمانڈ کالعدم قرار دینے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف درخواست پر ٹک ٹاکر یسرا سمیت 4 ملزمان کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دیا۔ عدالت نے ملزمان ٹک ٹاکر یسرا ، نمر، شہروز ا اور شہریار کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے پولیس کے خلاف انکوائری کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے۔ جمعہ کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کی عدالت میں فیروز آباد تھانے کی حدود میں 13 کروڑ روپے کی ڈکیتی سے متعلق کیس میں دو ملزمان کی جانب سے پولیس ریمانڈ کالعدم قرار دینے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ وکیل صفائی کی جانب سے مؤقف اختیار کیاگیاکہ میڈیکل رپورٹ میں ملزمان پر پولیس کی جانب سے تشدد ثابت ہوگیا ہے ، ملزمان پولیس کسٹڈٹی میں خطرہ ہے لہٰذا جیل بھیجا جائے۔ عدالت نے ٹک ٹاکر یسرا سمیت 4 ملزمان کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دیا۔ عدالت نے ملزمان ٹک ٹاکر یسرا ، نمر، شہروز ا اور شہریار کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے پولیس کے خلاف انکوائری کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے۔استغاثہ کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزمان کا 5 جولائی تک جسمانی ریمانڈ کا منظور کیا تھا، ملزمان نے پی ای سی ایچ ایس میں ڈکیتی کی تھی، ملزمان کے خلاف تھانہ فیروز آباد میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریمانڈ کالعدم قرار ٹک ٹاکر یسرا کی جانب سے حکم دے دیا ریمانڈ کا عدالت نے کے خلاف
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔