پرائیڈ آف پرفارمنس ملنے پر ُسونا اور چاندی‘ کے اعزاز میں تقریبِ پذیرائی
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
ٹی وی ڈراما کی معروف جوڑی ’’سونا چاندی‘‘ سے شہرت پانے والے اداکار حامد رانا اور شیبا حسن کو پرائیڈ آف پرفارمنس ملنے کی خوشی میں ایک تقریب پذیرائی منعقد کی گئی۔
دی بورے والینز کمیونٹی کی اس تقریب میں پرائیڈ آف پرفارمنس اداکار خالد عباس ڈار، اورنگ زیب لغاری، راشد محمود، اشرف خان اور معروف گلوکار خالد بیگ نے بھی خصوصی طورپر شرکت کی اور سونا چاندی کے فن پر روشنی ڈالی۔
سونا چاندی کے اعزاز میں رکھی گئی اس تقریب میں افواجِ پاکستان سے بھی یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
اس موقع پر اداکار خالدعباس ڈار کا کہنا تھا کہ حامد رانا ور شیبا حسن کی لازوال پرفارمنس کی وجہ سے سونا چاندی کو پاکستان کی ڈراما تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے بانی دی بورےوالینز عبد الباسط خان اور اس تنظیم کے تمام لوگوں کی فنکار برادی کی عزت افزائی کے لیے تقریب کو مثالی قرار دیا۔
اس موقع پر شرکا کے ساتھ گفتگو میں خالد عباس ڈار نے اپنی زندگی کے مختلف واقعات بھی شیئر کرکے تقریب کو یادگار بنایا۔
گلوکار خالد بیگ کےساتھ شرکا تقریب نے قومی پرچم تھامے ’’سوہنی دھرتی اللہ رکھے، قدم قدم آباد تجھے‘‘ گا کر وطن اور افواج پاکستان سے محبت کا اظہار کیا۔
ہاکی ورلڈکپ 1978 کے فائنل میں فیصلہ کن گول کرکے پاکستان کو عالمی چیمپئن بنوانے والےہیرو رانا احسان اللہ اورمینجمنٹ کمیٹی کے رکن ضیا محمود خان نے تمام فنکاروں اورمہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سونا چاندی
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔