Daily Mumtaz:
2026-07-24@01:24:46 GMT

پاک بھارت میں سفارتی محاذ پرنئی جنگ کاآغاز

اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT

پاک بھارت میں سفارتی محاذ پرنئی جنگ کاآغاز

 اسلام آباد(طارق محمودسمیر)بھارت کے خلاف پاکستان کی تاریخی کامیابی کے بعد ملک کے اندرمقبولیت کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوگئی اور عالمی میڈیا
نے مسلح افواج اور سپہ سالارجنرل عاصم منیر کی مقبولیت میں اضافے کے حوالے سے اپنی رپورٹس شائع کی ہیں جب کہ سینئرتجزیہ نگاراور بعض دیگرشخصیات بھی یہ کہہ رہی ہیں کہ بھارت کے خلاف تاریخی کامیابی کے بعد مسلح افواج کی مقبولیت آسمانوںسے بات کررہی ہیجب کہ اب سفارتی محاذ پرایک نئی جنگ شروع کردی گئی ہے،بھارت کیبعد پاکستان نے بھی پارلیمانی وفود تشکیل دے دیئے ہیں جو امریکہ،یورپ اور برطانیہ کے دوریکرکے پاکستان کے موقف سے آگاہ کریں گے ،اس وفدکی قیادت وزیراعظم شہبازشریف نے سابق وزیرخارجہ اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری کو دی ہے اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران عالمی میڈیاپربلاول بھٹوزرداری نے بہت اچھے انٹرویودے کر پاکستان کاموقف عالمی سطح پر اجاگرکیااوربھارتی میڈیاکی مہم کو بھی ناکام بنانے میں اپنافعال کرداراداکیا،ان کے وفدمیں تجربہ کار سیاستدانوں اور دفترخارجہ کے سابق سینئرشخصیات کوشامل کیاگیاہے،اس وفدمیں خارجہ امور کی سابق وزیرمملکت حناربانی کھر،سابق سیکرٹری خارجہ اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیرجلیل عباس جیلانی بھی شامل ہیں جو نگران دورحکومت میں وزیرخارجہ بھی رہے ہیں جب کہ ن لیگ کے سینئررہنماخرم دستگیرخان،سابق وزیردفاع اور وزیرخارجہ بھی رہ چکے ہیں، جب کہ تہمینہ جنجوعہ شامل ہیں اورخارجہ امورمیں ان تمام شخصیات کاوسیع تجربہ اور عالمی رہنماوں سے رابطے بھی موجود ہیں،دوسری جانب سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور تحریک انصاف کے رہنماشبلی فرازنے یہ نقطہ اٹھایاہے کہ جو وفود بیرون ملک جارہے ہیں ان میں تحریک انصاف کو بھی نمائندگی دی جائے ،اس پر وزیرقانون اعظم نذیرتارڑنے حکومتی موقف کااظہارکرتیہوئے کہاکہ اگرسپیکراورچیئرمین سینیٹ مناسب سمجھیں تو اس وفدمیں اپوزیشن کو شامل کیاجاسکتاہے،شبلی فرازکانقطہ اپنی جگہ اہم ہے لیکن بلاول بھٹوزرداری کی سربراہی میں جووفدبیرون ملک جارہاہے یہ پارلیمانی وفدنہیں ہے کیونکہ اس میں پارلیمنٹ سے دوشخصیات بلاول بھٹواور حناربانی کھرشامل ہیں جب کہ دیگرشخصیات پارلیمنٹ کا حصہ نہیں ہیں،پھر بھی وزیراعظم شہبازشریف کو چاہئے کہ اگرتحریک انصاف چاہتی ہے کہ اس کا کوئی رہنمااس وفدمیں شامل کیاجائے تو اس رہنماکو شامل کیاجاناچاہئے جو خارجہ امورکے معاملات سے متعلق تجربہ رکھتاہو،دوسری جانب پاک بھارت کشیدگی کے باوجود تحریک انصاف نے وزیراعظم شہبازشریف اور سپیکرسردارایازصادق کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کااعلان کیاہے گو کہ یہ اعلان سابق سپیکراسدقیصرنے کیاہے جس میں وہ یہ کہتے ہیں کہ ابھی یہ معاملہ زیرغورہے،پاک بھارت کشیدگی کے باعث فوری طور پر تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جارہی،اس پر تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہرنے جو ردعمل دیاہے وہ بڑادلچسپ ہے ان کاکہناہے کہ وزیراعظم اور سپیکرکے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی خبرجھوٹی اور غلط ہے ،پی ٹی آئی نے ایساکوئی فیصلہ نہیں کیااور نہ ہی یہ ہمارے ایجنڈیمیں شامل ہے،ایک ہفتے میں سب کچھ بدل گیاہے میں بارباریہ کہہ رہاہوں کہ اگربھارت کیساتھ سیزفائرہوسکتاہے تو پاکستان میں بھی سیزفائرہوناچاہئے ان دونوں بیانات کا جائزہ لیاجائے تو واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندرنہ تو کوئی ڈسپلن ہے نہ ہی فیصلہ سازی صحیح اندازمیں ہورہی ہے،پارٹی چیئرمین کہہ رہاہے کہ ایساکوئی فیصلہ نہیں ہوااور دوسری رہنماکہہ رہاہے کہ تحریک لائی جارہی ہے،پی ٹی آئی کے اندریکسوئی موجودنہیں ہے جب روزنامہ ممتازنے اس صورت حال پر پی ٹی آئی کے ایک سینئررہنماسے رابطہ کیا تو انہوں نے اپنانام نہ ظاہرکرنے کی شرط پر بتایاکہ یہ محمودخان اچکزئی کی پرانی تجویزہے کہ وزیراعظم اور سپیکرکے خلاف عدم اعتماد لایاجائے اور ہوسکتاہے کہ ان کی شرارت کیاثرات اسدقیصرتک پہنچے اور اسدقیصرنے تحریک عدم اعتماد لانے کااعلان کردیا،محمود خان اچکزئی پی ٹی آئی کے لئے قابل احترام ہیں لیکن اس طرح کی کوئی تجویزابھی تک پارٹی میں کسی پلیٹ فارم پر زیرغورنہیں آئی،نہ توسیاسی کمیٹی اور نہ ہی پارلیمانی پارٹی میں کوئی تجویزآئی،واضح رہے کہ محمودخان اچکزئی گزشتہ چندماہ سے یہ کوشش کررہے ہیں کہ سپیکرکے خلاف پہلے اور بعدمیں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے لیکن پی ٹی آئی کی قیادت ان کی تجویزسے اتفاق نہیں کررہی ،ویسے بھی نمبرگیم کے اعتبارسے دیکھاجائے تو حکمران اتحاد کے پاس 200سے ووٹ ہیں اور پی ٹی آئی اس کے اتحادی چھوٹی جماعتوں کے پاس 100کے قریب ووٹ ہیںاورعدم اعتماد کے لئے مزید 70ووٹ چاہئیں،اگریہ تحریک باضابطہ طورپرجمع کرادی گئی اور ووٹنگ کامرحلہ آیاتو اس بات کے خدشات موجودہیں کہ پی ٹی آئی کے ووٹ مزید کم نہ ہوجائیں۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار