Daily Mumtaz:
2026-06-03@02:06:56 GMT

پاک بھارت میں سفارتی محاذ پرنئی جنگ کاآغاز

اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT

پاک بھارت میں سفارتی محاذ پرنئی جنگ کاآغاز

 اسلام آباد(طارق محمودسمیر)بھارت کے خلاف پاکستان کی تاریخی کامیابی کے بعد ملک کے اندرمقبولیت کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوگئی اور عالمی میڈیا
نے مسلح افواج اور سپہ سالارجنرل عاصم منیر کی مقبولیت میں اضافے کے حوالے سے اپنی رپورٹس شائع کی ہیں جب کہ سینئرتجزیہ نگاراور بعض دیگرشخصیات بھی یہ کہہ رہی ہیں کہ بھارت کے خلاف تاریخی کامیابی کے بعد مسلح افواج کی مقبولیت آسمانوںسے بات کررہی ہیجب کہ اب سفارتی محاذ پرایک نئی جنگ شروع کردی گئی ہے،بھارت کیبعد پاکستان نے بھی پارلیمانی وفود تشکیل دے دیئے ہیں جو امریکہ،یورپ اور برطانیہ کے دوریکرکے پاکستان کے موقف سے آگاہ کریں گے ،اس وفدکی قیادت وزیراعظم شہبازشریف نے سابق وزیرخارجہ اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری کو دی ہے اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران عالمی میڈیاپربلاول بھٹوزرداری نے بہت اچھے انٹرویودے کر پاکستان کاموقف عالمی سطح پر اجاگرکیااوربھارتی میڈیاکی مہم کو بھی ناکام بنانے میں اپنافعال کرداراداکیا،ان کے وفدمیں تجربہ کار سیاستدانوں اور دفترخارجہ کے سابق سینئرشخصیات کوشامل کیاگیاہے،اس وفدمیں خارجہ امور کی سابق وزیرمملکت حناربانی کھر،سابق سیکرٹری خارجہ اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیرجلیل عباس جیلانی بھی شامل ہیں جو نگران دورحکومت میں وزیرخارجہ بھی رہے ہیں جب کہ ن لیگ کے سینئررہنماخرم دستگیرخان،سابق وزیردفاع اور وزیرخارجہ بھی رہ چکے ہیں، جب کہ تہمینہ جنجوعہ شامل ہیں اورخارجہ امورمیں ان تمام شخصیات کاوسیع تجربہ اور عالمی رہنماوں سے رابطے بھی موجود ہیں،دوسری جانب سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور تحریک انصاف کے رہنماشبلی فرازنے یہ نقطہ اٹھایاہے کہ جو وفود بیرون ملک جارہے ہیں ان میں تحریک انصاف کو بھی نمائندگی دی جائے ،اس پر وزیرقانون اعظم نذیرتارڑنے حکومتی موقف کااظہارکرتیہوئے کہاکہ اگرسپیکراورچیئرمین سینیٹ مناسب سمجھیں تو اس وفدمیں اپوزیشن کو شامل کیاجاسکتاہے،شبلی فرازکانقطہ اپنی جگہ اہم ہے لیکن بلاول بھٹوزرداری کی سربراہی میں جووفدبیرون ملک جارہاہے یہ پارلیمانی وفدنہیں ہے کیونکہ اس میں پارلیمنٹ سے دوشخصیات بلاول بھٹواور حناربانی کھرشامل ہیں جب کہ دیگرشخصیات پارلیمنٹ کا حصہ نہیں ہیں،پھر بھی وزیراعظم شہبازشریف کو چاہئے کہ اگرتحریک انصاف چاہتی ہے کہ اس کا کوئی رہنمااس وفدمیں شامل کیاجائے تو اس رہنماکو شامل کیاجاناچاہئے جو خارجہ امورکے معاملات سے متعلق تجربہ رکھتاہو،دوسری جانب پاک بھارت کشیدگی کے باوجود تحریک انصاف نے وزیراعظم شہبازشریف اور سپیکرسردارایازصادق کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کااعلان کیاہے گو کہ یہ اعلان سابق سپیکراسدقیصرنے کیاہے جس میں وہ یہ کہتے ہیں کہ ابھی یہ معاملہ زیرغورہے،پاک بھارت کشیدگی کے باعث فوری طور پر تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جارہی،اس پر تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہرنے جو ردعمل دیاہے وہ بڑادلچسپ ہے ان کاکہناہے کہ وزیراعظم اور سپیکرکے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی خبرجھوٹی اور غلط ہے ،پی ٹی آئی نے ایساکوئی فیصلہ نہیں کیااور نہ ہی یہ ہمارے ایجنڈیمیں شامل ہے،ایک ہفتے میں سب کچھ بدل گیاہے میں بارباریہ کہہ رہاہوں کہ اگربھارت کیساتھ سیزفائرہوسکتاہے تو پاکستان میں بھی سیزفائرہوناچاہئے ان دونوں بیانات کا جائزہ لیاجائے تو واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندرنہ تو کوئی ڈسپلن ہے نہ ہی فیصلہ سازی صحیح اندازمیں ہورہی ہے،پارٹی چیئرمین کہہ رہاہے کہ ایساکوئی فیصلہ نہیں ہوااور دوسری رہنماکہہ رہاہے کہ تحریک لائی جارہی ہے،پی ٹی آئی کے اندریکسوئی موجودنہیں ہے جب روزنامہ ممتازنے اس صورت حال پر پی ٹی آئی کے ایک سینئررہنماسے رابطہ کیا تو انہوں نے اپنانام نہ ظاہرکرنے کی شرط پر بتایاکہ یہ محمودخان اچکزئی کی پرانی تجویزہے کہ وزیراعظم اور سپیکرکے خلاف عدم اعتماد لایاجائے اور ہوسکتاہے کہ ان کی شرارت کیاثرات اسدقیصرتک پہنچے اور اسدقیصرنے تحریک عدم اعتماد لانے کااعلان کردیا،محمود خان اچکزئی پی ٹی آئی کے لئے قابل احترام ہیں لیکن اس طرح کی کوئی تجویزابھی تک پارٹی میں کسی پلیٹ فارم پر زیرغورنہیں آئی،نہ توسیاسی کمیٹی اور نہ ہی پارلیمانی پارٹی میں کوئی تجویزآئی،واضح رہے کہ محمودخان اچکزئی گزشتہ چندماہ سے یہ کوشش کررہے ہیں کہ سپیکرکے خلاف پہلے اور بعدمیں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے لیکن پی ٹی آئی کی قیادت ان کی تجویزسے اتفاق نہیں کررہی ،ویسے بھی نمبرگیم کے اعتبارسے دیکھاجائے تو حکمران اتحاد کے پاس 200سے ووٹ ہیں اور پی ٹی آئی اس کے اتحادی چھوٹی جماعتوں کے پاس 100کے قریب ووٹ ہیںاورعدم اعتماد کے لئے مزید 70ووٹ چاہئیں،اگریہ تحریک باضابطہ طورپرجمع کرادی گئی اور ووٹنگ کامرحلہ آیاتو اس بات کے خدشات موجودہیں کہ پی ٹی آئی کے ووٹ مزید کم نہ ہوجائیں۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان

تحریک انصاف کے رہنما شفیع جان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی کیمپین کر رہے ہیں۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی وزیر وہاں ہوتا تو الیکشن کمیشن حرکت میں آچکا ہوتا۔ الیکشن کمیشن کی یہ خاموشی ہمیں سمجھ نہیں آرہی۔

شفیع جان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے الحاق کیا تو اُس کو بھی کینسل کر دیا گیا اور ہمارے اُمیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کر دیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام فیصلہ کر چکے ہیں، 7 جون کو تحریک انصاف کامیاب ہو گی۔ ہم اپنے ووٹ کو محفوظ بنانے کے مکینزم پر کام کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی ایک اور واردات کی تیاری کی جارہی ہے وہ ہم کرنے نہیں دیں گے۔ اس کے خلاف ہمیں اگر گلگت بلتستا ن بند کرنا پڑا تو یہ بھی کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی