جمشید دستی کے اثاثہ جات اور تعلیمی اسناد سے متعلق کیس، فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
الیکشن کمیشن آف پاکستان میں سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے خلاف اثاثوں اور تعلیمی اسناد سے متعلق دائر درخواست کی سماعت مکمل ہوگئی، جس کے بعد تین رکنی کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
سماعت ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزار امیر اکبر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جمشید دستی نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں اثاثے چھپائے اور جھوٹی تعلیمی تفصیلات درج کیں۔ وکیل کے مطابق دستی نے کاغذاتِ نامزدگی میں ایف اے لکھا جبکہ وہ نہ میٹرک پاس ہیں اور نہ ایف اے۔
ممبر خیبر پختونخوا نے استفسار کیا کہ کیا جمشید دستی کی ایسی کوئی پراپرٹی ہے جو کاغذات میں ظاہر نہیں کی گئی؟ جس پر وکیل نے اثبات میں جواب دیا۔
دورانِ سماعت دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب کمیشن کے ممبر بلوچستان نے سوال کیا اگر کوئی شخص ان پڑھ ہو تو کیا ہوگا؟ اس پر ممبر خیبر پختونخوا نے استفسار کیا کہ کیا جمشید دستی نے جھوٹ بولا؟ جس پر وکیل نے کہا، جی ہاں، جمشید دستی نے جھوٹ بولا ہے۔
وکیل کے مطابق جمشید دستی نے 2017 میں بی اے کیا، جبکہ وہ ایف اے بعد میں یعنی 2020 میں کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں، جو تسلسل کے لحاظ سے مشکوک ہے۔ وکیل نے بتایا کہ بہاولپور یونیورسٹی نے جمشید دستی کی بی اے اور ایف اے کی اسناد کو جعلی قرار دیا ہے، جبکہ میٹرک کی سند بھی ڈی جی خان بورڈ سے جعلی ثابت ہوئی ہے۔
جمشید دستی کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہوں نے میٹرک اور ایف اے کراچی بورڈ سے کیا ہے، جس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ ان اسناد کی تصدیق کراچی بورڈ سے کروائی جائے گی۔
ممبر خیبر پختونخوا نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کے پاس جمشید دستی کو نااہل قرار دینے کے اختیارات موجود ہیں۔
الیکشن کمیشن نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جمشید دستی نے الیکشن کمیشن وکیل نے ایف اے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔