Daily Sub News:
2026-06-03@05:23:43 GMT

پاکستان میں نوجوان نسل اور سگریٹ نوشی

اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT

پاکستان میں نوجوان نسل اور سگریٹ نوشی

پاکستان میں نوجوان نسل اور سگریٹ نوشی WhatsAppFacebookTwitter 0 20 May, 2025 سب نیوز

جاریہ زہرہ

حالیہ برسوں میں پاکستان میں نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جو عمل کبھی بڑی عمر کے افراد کا شوق سمجھا جاتا تھا، وہ اب نوجوانوں اور حتیٰ کہ کم عمر طلبہ و طالبات میں بھی تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے کیمپس سے لے کر چائے کے ہوٹلوں، انسٹاگرام اسٹوریز، اور رات گئے کی محفلوں تک، سگریٹ نوشی (چاہے وہ سگریٹ ہو، شیشہ ہو، یا ویپ) نوجوانوں کی زندگی کا ایک حصہ بن چکی ہے۔ یہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی چیلنج بھی ہے، جو ہمارے معاشرے میں موجود گہرے نفسیاتی، ثقافتی اور قانونی خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایک بڑھتی ہوئی وباء

پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل کے مطابق ملک میں تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ افراد تمباکو کسی نہ کسی شکل میں استعمال کرتے ہیں، اور ان میں بڑی تعداد 15 سے 29 سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ گلوبل یوتھ ٹوبیکو سروے (GYTS) کے مطابق سکول جانے والے بچوں میں بھی سگریٹ نوشی کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اگرچہ لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے، لیکن لڑکیوں میں بھی یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

یہ اضافہ صرف روایتی سگریٹ نوشی تک محدود نہیں۔ بڑے شہروں میں شیشہ کیفے عام ہو چکے ہیں، جہاں فلیورڈ تمباکو ایک ایسے انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے کم نقصان دہ محسوس ہوتا ہے۔ اسی طرح ویپنگ اور ای سگریٹس کو “محفوظ متبادل” کے طور پر مارکیٹ کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں ان میں بھی نکوٹین اور دیگر مضر صحت کیمیکل موجود ہوتے ہیں۔

وجوہات: صرف فیشن نہیں، ایک نفسیاتی کشمکش

نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ رجحان اکثر ایک فیشن، سٹیٹس یا ’کول‘ بننے کے طریقے کے طور پر اپنایا جاتا ہے۔ نوجوان جب خود کو بڑے ہوتے ہوئے محسوس کرتے ہیں تو وہ ایسی عادتیں اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جو انہیں “بالغ” یا آزاد ظاہر کریں۔

دوسری اہم وجہ ذہنی دباؤ، امتحانی تناؤ، خاندانی مسائل یا کسی ذاتی بحران سے نمٹنے کی ناکام کوشش ہو سکتی ہے۔ تمباکو کا وقتی سکون نوجوانوں کو وقتی طور پر آرام دیتا ہے، مگر طویل المدتی نتائج نہایت خطرناک ہوتے ہیں۔ کئی نوجوان مشہور شخصیات کی نقل میں سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں، خاص طور پر جب فلموں، ڈراموں یا سوشل میڈیا پر تمباکو نوشی کو ’اسٹائلش‘ بنا کر دکھایا جاتا ہے۔

خاندان اور تعلیمی اداروں کا کردار

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں والدین اور اساتذہ کی جانب سے اس مسئلے پر کھل کر بات نہیں کی جاتی۔ اکثر والدین اپنی اولاد کی عادات سے ناواقف ہوتے ہیں یا ان سے دوستی کے بجائے فاصلہ رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے نوجوان اپنے مسائل اور الجھنیں کسی اور انداز میں نکالتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی تمباکو نوشی کے خلاف کوئی مؤثر آگاہی پروگرام نظر نہیں آتے، اور بعض جگہوں پر اساتذہ خود سگریٹ نوشی کرتے ہیں، جس سے ایک دوہرا معیار جنم لیتا ہے۔

قانونی کمزوری اور عمل درآمد کی کمی

اگرچہ پاکستان میں پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی ہے اور تمباکو کی تشہیر کے خلاف بھی قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد بہت کمزور ہے۔ دکان دار بلاخوف کم عمر لڑکوں کو سگریٹ بیچ دیتے ہیں۔ شیشہ کیفے اور ویپنگ شاپس اکثر رہائشی علاقوں میں کھلی ہوتی ہیں، جہاں کوئی نگرانی یا قانونی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہوتا۔ کئی بار ایسے کیفے پولیس کی سرپرستی میں بھی چلتے ہیں۔

سوشل میڈیا کا اثر

سوشل میڈیا نے بھی اس رجحان کو بڑھاوا دیا ہے۔ نوجوان جب سوشل میڈیا پر اپنے دوستوں، انفلوئنسرز، یا مشہور شخصیات کو سگریٹ پیتے دیکھتے ہیں، تو وہ خود کو پیچھے محسوس کرتے ہیں۔ ایسے ویڈیوز اور تصاویر جہاں سگریٹ یا شیشہ پینا ’کول‘ یا ’فن‘ سمجھا جاتا ہے، وہ براہِ راست نوجوانوں کو متاثر کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی ایسے مواد کے خلاف مؤثر مانیٹرنگ نہیں ہو رہی۔

صحت پر تباہ کن اثرات

طبی ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی صرف پھیپھڑوں کی بیماریوں، دل کے امراض اور کینسر کا سبب نہیں بنتی بلکہ نوجوانوں میں دماغی کمزوری، توجہ کی کمی، نیند کی خرابی اور ذہنی دباؤ کا باعث بھی بنتی ہے۔ نکوٹین ایک نشہ آور مادہ ہے جو دماغ پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔ نوجوان جب اس کا عادی بن جاتے ہیں تو وہ پڑھائی، کریئر اور ذاتی زندگی میں پیچھے رہنے لگتے ہیں۔

حل کیا ہے؟

سگریٹ نوشی کے بڑھتے رجحان کو روکنے کے لیے صرف قانون سازی کافی نہیں، بلکہ ایک مکمل سماجی، تعلیمی اور نفسیاتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد سے دوستی کا رشتہ قائم کریں، ان کے مسائل سنیں اور انہیں درست و غلط میں فرق سکھائیں۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ تمباکو نوشی کے خلاف باقاعدہ آگاہی پروگرام چلائیں، اور ساتھ ہی طلبہ کی ذہنی صحت پر بھی توجہ دیں۔

میڈیا، خاص طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، کو چاہیے کہ وہ تمباکو نوشی کو بڑھاوا دینے والے مواد پر کنٹرول کریں اور مثبت طرزِ زندگی کو فروغ دیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف قوانین سخت کرے بلکہ ان پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنائے۔ عوامی جگہوں، کالجوں اور کیفے جیسے مقامات پر چیکنگ کا نظام وضع کیا جائے، اور تمباکو مصنوعات کی فروخت پر عمر کی حد کو سختی سے لاگو کیا جائے۔

سگریٹ نوشی ایک بیماری ہے، مگراس سے بھی بڑھ کر یہ ایک سماجی بحران بنتا جا رہا ہے جو ہماری نوجوان نسل کی صحت، ذہن، اور مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو ایک پوری نسل ذہنی و جسمانی کمزوریوں کا شکار ہو کر ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور والدین، اساتذہ، پالیسی ساز، اور معاشرہ ایک اجتماعی شعور کے ساتھ اس مسئلے کا سامنا کریں۔ نوجوانوں کو صرف سگریٹ سے نہیں، بلکہ اس کے پیچھے چھپی مایوسی، اضطراب، اور غلط ترجیحات سے بھی بچانا ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمنگلا کے طالب علم سے فیلڈ مارشل تک، پاک فوج کے سب سے سینئر آفیسرجنرل عاصم منیر کے کیریئر پر ایک نظر منگلا کے طالب علم سے فیلڈ مارشل تک، پاک فوج کے سب سے سینئر آفیسرجنرل عاصم منیر کے کیریئر پر ایک نظر وفاقی حکومت اور کے پی حکومت کے درمیان این ایف سی ایوارڈ پر معاملات طے پاگئے قازقستان کے سفیر یرژان کیستافین کی چیئر مین سی ڈی اے سے ملاقات، اسلام آباد کی ترقی، خوشحالی ، بیوٹیفکیشن اور ماحول دوست پودے.

.. حکومت نے یو اے ای کے تین بینکوں سے ایک ارب ڈالر قرض مانگ لیا چین کا پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں ساتھ دینے کا اعلان معاشی پالیسیاں بنانا ماہرین صحت نہیں بلکہ ماہرین اقتصادیات کا کام ہے، امین ورک TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: تمباکو نوشی پاکستان میں سگریٹ نوشی سوشل میڈیا کرتے ہیں جاتا ہے میں بھی کے خلاف نوشی کے رہا ہے

پڑھیں:

جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم

سٹی 42: علیمہ خانم  نے  فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک  کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے

علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔

جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔

بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات  ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔

افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،

ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

متعلقہ مضامین

  • نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار