لاہور کینال روڈ پرگاڑی نہر میں جاگری، 3 افراد جاں بجق
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) صوبائی دارالحکومت لاہور میں کینال روڈ پر جوہر ٹاؤن کے قریب گاڑی نہر میں گر گئی،گاڑی میں سوار تین افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ریسکیو حکام نے موقع پر پہنچ کر گاڑی میں سوار افراد کو باہر نکالا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے، ریسکیو نے لاشوں کو ہسپتال منتقل کردیا، حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، ریسکیو اہلکاروں بڑی کوشش کے بعد گاڑی کو نہر سے نکالا۔
حادثے کے باعث کینال روڈ پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو گئی جس کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
رحیم یارخان: مسافر بس کی ٹرک سے ٹکر، 5 افراد جاں بحق
علاوہ ازیں رحیم یارخان میں موٹر وے ایم فائیو پر مسافر بس ٹرک سے ٹکرا گئی، حادثے کے نتیجے میں 5 مسافر جاں بحق جبکہ 26 زخمی ہو گئے، لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
پولیس اور موٹروے حکام نے جائے حادثہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑ دیا، ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی بڑی وجہ ڈرائیور کی غفلت اور نیند کی حالت میں گاڑی چلانا بتایا جا رہا ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔