دوران سفر ڈرائیور کی نیند خوفناک حادثے کا سبب بن گئی، 4 افراد جاں بحق، 14 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
رحیم یار خان:
موٹر وے ایم-5 پر کشمور کے قریب ڈرائیور کی غفلت کے باعث ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں 4 افراد جاں بحق جبکہ 14 زخمی ہو گئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق حادثہ ایک مسافر بس اور مزدا گاڑی کے درمیان تصادم کے نتیجے میں پیش آیا، جو مبینہ طور پر بس ڈرائیور کو نیند آنے کے باعث پیش آیا۔
حادثے کے فوری بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔
مزید پڑھیں: رحیم یار خان میں ٹریفک حادثہ بس نے دوسری گاڑی کے 6 مسافروں کو کچل دیا
ترجمان کے مطابق 3 زخمیوں کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ 11 شدید زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
پولیس اور موٹروے حکام نے جائے حادثہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑ دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی بڑی وجہ ڈرائیور کی غفلت اور نیند کی حالت میں گاڑی چلانا بتایا جا رہا ہے۔
مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ جاں بحق افراد کی شناخت اور لواحقین کو اطلاع دینے کا عمل بھی مکمل کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں