کنڈیارو: دریائے سندھ سے کینالز نکالنے اور کارپوریٹ فارمنگ کیخلاف کالعدم قوم پرست جماعت کے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والا نوجوان جاں بحق ہوگیا، مظاہرین نے وزیر داخلہ کے گھر اور کئی مال بردار گاڑیوں کو نذر آتش کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق قوم پرست جماعت کے کارکنان نے مورو میں قومی شاہراہ پر احتجاج کیا، جس کے دوران پولیس نے سڑک کھلوانے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے ہوائی فائرنگ کی۔

پولیس کی جانب سے کی جانے والی ہوائی فائرنگ اور لاٹھی چارج کے دوران مشتعل افراد نے اطراف میں موجود دکانوں، ہوٹلوں، مال بردار ٹرالوں کو آگ لگائی جبکہ نامعلوم افراد ٹرکوں سے سامان اور غذائی اجناس لوٹ کر لے گئے۔

پولیس کی جانب سے کی جانے والی ہوائی فائرنگ اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں 8 مظاہرین زخمی جبکہ متعدد گرفتار ہوئے، جس کے بعد مشتعل کارکنان بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور انہوں نے وزیر داخلہ سندھ کے گھر لنجار ہاؤس پر دھاوا بولا۔

مظاہرین نے لنجار ہاؤس پر تعینات پولیس افسران و اہلکاروں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ اندر داخل ہوکر توڑ پھوڑ کی اور گھر کو نذر آتش کردیا۔

پولیس کے مطابق مظاہرین نے پولیس اور ٹرالرز پر پتھراؤکیا جس کے باعث کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹے، اس کے علاوہ آئل ٹینکر اور ٹریلر کو نذر آتش بھی کیا جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کی املاک جل کر راکھ ہوگئیں۔ 

مظاہرین نے مال بردار ٹرکوں کے ڈرائیور کو لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر انہیں آگ لگا دی۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے مورو بائی پاس پر بھی گاڑیاں نذر آتش کر کے سڑک کو بند کردیا۔

پولیس کے مطابق قومپرست جماعت کے مشتعل کارکنان نے دو پولیس کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا جبکہ تشدد سے پولیس اہلکار زخمی بھی ہوا جسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

اس دوران پولیس اور مظاہرین میں وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری رہیں، جبکہ ایک زخمی کی موت کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوئے جس پر شہر میں ضلع بھر سے پولیس کی نفری کو طلب کیا گیا۔

مظاہرین نے ضیا الحسن لنجار کے گھر اور اطراف میں کھڑی موٹرسائیکلیں راکھ کا ڈھیر بنائیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق مشتعل ڈنڈا بردار مظاہرین ٹولیوں کی شکل میں شاہراہ پر گشت کررہے ہیں۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ کالعدم تنظیم جسمم کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا، حالات کشیدہ ہونے کے بعد مظاہرین نے قومی شاہراہ پر دھرنا دے دیا ہے۔

اُدھر مورو بائی پاس پر ہنگامہ آرائی کے دوران زخمی پولیس اہلکار سمیت تین زخمیوں کو پیپلز میڈیکل اسپتال منتقل کردیا گیا۔ ایم ایس ڈاکٹر یار علی جمالی نے بتایا کہ ایک زخمی نوجوان اور قوم پرست جماعت کے رہنما زاہد لغاری کو زخمی حالت میں لایا گیا تھا جو دوران علاج جاں بحق ہوگیا۔

سندھ حکومت کے ترجمان سلمان مراد نے مورو میں وزیرِداخلہ کے گھر کو نذر آتش کرنے کے عمل کو انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک قرار دیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کی رہائش گاہ پر حملےکی شدید مذمت کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ترجمان سندھ حکومت عقربہ فاطمہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مورو میں وزیر داخلہ کے گھر پر حملہ قانون شکنی کی انتہا ہے، اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے، حکومت خاموش تماشائی نہیں بنے گی، ذاتی رنجش یا سیاسی اختلاف کی آڑ میں گھروں کو جلانا ناقابلِ قبول ہے۔

عقربہ فاطمہ نے کہا کہ ایسے واقعات سندھ کی پرامن فضا کو آلودہ کرنے کی دانستہ کوشش ہیں، منصوبوں پر اعتراض جمہوری حق ہے، مگر تشدد اس کا حل نہیں، حملے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے، سندھ میں انتشار پھیلانے کا ہر منصوبہ ناکام بنایا جائے گا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ عوامی قیادت کو نشانہ بنانا ریاست اور عوام دونوں پر حملہ ہے۔ حکومت شہریوں اور نمائندوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرے گی اور قانون اپنا راستہ لے گا۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پرست جماعت کے داخلہ کے گھر کو نذر ا تش وزیر داخلہ مظاہرین نے کے دوران کے مطابق پولیس کی کہا کہ

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن